Governor Raj Aur Ishq o Muhabbat Ki Aik Hairat Angez Dastan
گورنر راج اور عشق و محبت کی ایک حیرت انگیز داستان
کل خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا امتزاج بحکم صدر نافذ ہوچکا صوبائی حکومت غیر فعال ہوگئی اور اختیارات گورنر اور اس کے ایڈوائزری کونسل کو منتقل ہوگئے بتایا گیا کہ آئین کے شق 233 اور 234 میں درج جن معروضی حالات اور وجوہات کی صراحت کی گئی ہے وہ من و عن پوری ہوچکی ہے۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں صوبہ یرغمال ہے ہر سو ارتعاش ہے صوبائی حکومت ریاست کی عملداری کے بجائے دہشت گردوں کو بھتہ دیکر جان کی امان پاکر اپنے خودساختہ نیلسن منڈیلا کی رہائی میں ہمہ تن گوش ہے، عوام رُل رہے ہیں مررہے ہیں، صحت کا بیڑا غرق ہے تعلیم کا جنازہ نکل چکا ہے، سب کچھ تلپٹ ہے مگر صوبے کا عوامی نمائندہ عشق عمران میں کٹ مرنے پر تلا ہے لہذا تمام گواہوں اور ثبوتوں کے پیش نظر صوبے کو وفاق کے سپرد کیا جاتا ہے۔
بندہ پوچھے کہ وفاق میں آپ نے کونسا اتنا بڑا تیر مار لیا ہے ملک ترقی کے منازل زینہ بہ زینہ برق رفتاری سے طے کرکے بام عروج کی سمت روبہ سفر ہے بیروزگاری کم ہورہی ہے خسارے آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ مہنگائی کا قلع قمع ہوچکا ہے میرٹ کی بالادستی قائم ہوچکی ہے اور انصاف کا دور دوراں ہے کہ اب آپ پختونخوا کو بھی اپنی تحویل میں لیکر آسودگی اور خوشحالی سے بہر مند کرنا چاہ رہے ہیں۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وفاق کا صوبائی حکومت کے خلاف یہ چارج شیٹ مبنی بر حقیقت نہیں کہ جس ٹائپ کے مسخرے اس صوبے کے سریر آئے حکومت پر مسلسل تیرہ سال سے براجمان ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے جن کو اپنے محلے والے منہ تک نہیں لگاتے جو کونسلری تک........
