menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maholiyati Aloodgi Mein Mobile Phone Ka Kirdar

36 0
01.10.2026

ماحولیاتی آلودگی میں موبائل فون کا کردار

لاہور کے کسی گنجان کباڑ خانے میں داخل ہوں، راولپنڈی کے چور بازار کا رخ کریں یا کراچی کے مضافات میں قائم گوداموں کا جائزہ لیں، ہر جگہ آپ کو ایک چمکدار اور کارآمد شے کے اندر چھپی ماحولیاتی تباہی کا سراغ ملے گا جس پر ہماری اربن پالیسیوں نے آنکھیں موند رکھی ہیں۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات بستر پر جانے تک جس سمارٹ فون کو ہم سٹیٹس سمبل، رابطے اور ڈیجیٹل تفریح کا ناگزیر ذریعہ سمجھے بیٹھے ہیں وہی دراصل ہماری ہوا، زیرِ زمین پانی اور زرعی زمین کے لیے ایک سائلنٹ کلر ثابت ہو رہا ہے۔ سموگ اور ماحولیاتی آلودگی پر جب بھی ٹاسک فورسز بیٹھتی ہیں، سارا ملبہ دھواں چھوڑتی گاڑیوں، فیکٹریوں کے بوائلرز اور فصلوں کی باقیات جلانے والے کسانوں پر ڈال دیا جاتا ہے لیکن میری اور آپ کی جیب میں پڑا فائیو جی موبائل جس انداز میں ماحولیاتی بگاڑ کا حجم بڑھا رہا ہے اس کی کڑیاں کینسر وارڈز اور بنجر ہوتی مٹی سے جا ملتی ہیں۔

حقائق اور ڈیٹا پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس "جرم" کا آغاز فیکٹری کے دروازے سے بھی بہت پہلے کان کنی کے اڈوں پر ہوتا ہے۔ ایک عام سمارٹ فون کے سرکٹ اور باڈی میں سونا، چاندی، تانبا، لیتھم اور کوبالٹ سمیت درجنوں حساس زمینی مادے چھپے ہوتے ہیں۔ لیتھیم اور کوبالٹ کے بغیر تو سمارٹ فون کی بیٹری تیار نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور انڈسٹریل رپورٹس میں دئیے گئے ٹھوس شواہد........

© Daily Urdu