Juraim Ki Shara Manfi? Lahore Police Chief Ka Dawa
جرائم کی شرح منفی؟ لاہور پولیس چیف کا دعویٰ
کیپٹل سٹی پولیس چیف بلال صدیق کمیانہ لاہور پریس کلب کے پروگرام "میٹ دا پریس" میں تھے۔ ان کے دائیں بائیں لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور ڈی آئی جی آپریشنز بھی موجود تھے یعنی سادہ الفاظ میں لاہور پولیس کی کمانڈ میڈیا کے سامنے بیٹھے تھے۔ سی سی پی او لاہور پر اعتماد انداز میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا لاہور پریس کلب آنا اس لیے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ اس سے قبل کئی ماہ تک لاہور کے کرائم رپورٹرز اور لاہور پولیس کے درمیان تناو کی کیفیت رہی ہے۔ اب لاہور پولیس کے چیف کا پریس کلب آنا یہ واضح کرتا ہے برف پگھل چکی ہے۔
لاہور پولیس کے چیف کہہ رہے تھے کہ پولیس اور صحافت کا رشتہ کوئی عارضی تعلق نہیں بلکہ یہ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پولیس ہو یا میڈیا خبر کو دبانا یا چھپانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر کوئی وقوعہ ہوا ہے تو وہ سامنے آنا چاہیے مگر اصل ذمہ داری یہ ہے کہ واقعے کو رپورٹ کرنے سے پہلے اس کے حقائق کی مکمل تصدیق کی جائے۔ سنسنی خیزی کی دوڑ میں بسا اوقات ایسی غلط یا غیر مصدقہ خبریں اچھال دی جاتی ہیں جن کا براہ راست منفی اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔
بلال صدیق کمیانہ نے پریس کلب کے ہال میں موجود صحافیوں کو یاد دلایا کہ ان کا اس شہر سے تعلق نیا نہیں۔ وہ پچھلے تیس برس کے دوران مختلف عہدوں اور حوالوں سے لاہور میں سروس کرتے رہے ہیں اس لیے انہیں یہاں کے سماجی رویوں اور جرائم کے بدلتے انداز کا گہرا ادراک ہے۔ اس موقع پر لاہور میں جرائم کی........
