Izterab Se Inkeshaf Tak
کائنات کی سب سے پہلی حقیقت اضطراب ہے۔ خاموشی اپنی آخری تہہ میں کبھی ساکت نہیں ہوتی۔ اس کے باطن میں ایک پوشیدہ ارتعاش ہمیشہ موجزن رہتا ہے۔ وجود کا آغاز بھی اسی مخفی ارتعاش سے ہوا تھا اور اس مابعد الطبیعیاتی لمحے کو مختلف مذاہب اور تہذیبوں نے مختلف نام دیے۔ یونانی فکرنے اسے Logos کہا۔ صوفیا نے تجلیِ اول سے تعبیر کیا۔ مگر حقیقت ان تمام تعبیرات سے وسیع تر ہے۔ کائنات کی اصل بنیاد احساس ہے اور احساس کی پہلی صورت جمالیاتی انکشاف ہے۔
وجود ابتدا میں امکان تھا۔ اشیاء اپنی ماہیت میں موجود تھیں مگر اب تک ان کے اندر معنویت کی کوئی لہر پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اسے اسلامی مابعدالطبیعات یا صوفیانہ اصطلاحات میں "اعیانِ ثابتہ" بھی کہا جا سکتا ہے، جہاں حقیقت اپنے تمام امکانات کے باوجود ابھی اظہار کی سطح تک نہیں پہنچی۔ ابنِ عربی کے نظریۂ وحدت الوجود میں بھی وجود اپنی اصل میں ایک مخفی حقیقت ہے جو مسلسل تجلی کے عمل سے گزر کر ظہور اختیار کرتی ہے۔ یعنی تخلیق خود وجود کے اندر موجود پوشیدہ شعور کی تدریجی بیداری ہے۔ صوفیانہ افکار میں کائنات کو نفسِ رحمانی کہا گیا جس سے مراد ہے کہ خدا نے اشیاء کو اپنے باطن کے جمالیاتی اظہارات میں ظاہر کیا۔
اس مقام پر جمال یا حسن کو وجودیاتی اصولوں کے تحت دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جمال وجود کی علت ہے۔ افلاطون کے ہاں حسن ideal reality ہے۔ جبکہ اسلامی عرفان میں حسن خود حقیقت کا ظہور ہے۔ اسی لیے صوفیا نے کہا کہ عشق کائنات کی تخلیقی قوت ہے۔........
