Mining License Aur Siasi Wawela
مائننگ لائسنس اور سیاسی واویلا
خیبر پختونخوا میں جب سے تحریک انصاف کی حکومت ختم کرکے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے معدنیات اور کان کنی کے شعبے کو لے کر پی ٹی آئی کے ذرائع ابلاغ پر جو تحریف شدہ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے وہ دراصل اپنی تیرہ سالہ ناکامیوں اور معاشی بد نظمی پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ تاریخ اور سرکاری اعداد و شمار پر نظر دوڑائی جائے تو سچائی خود بخود نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر 2010 تک کے طویل عرصے میں پورے صوبے اندر محض 482 معدنی لائسنس جاری ہوئے تھے لیکن تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالتے ہی ان گرانقدر قومی وسائل کی تقسیم میں غیر معمولی اور بے دریغ اضافہ دیکھا گیا۔
پرویز خٹک کے پہلے دور حکومت میں یہ تعداد 1762 تک جا پہنچی اور بعد ازاں محمود خان کے دور اقتدار میں یہ بڑھ کر 3962 کی بلندیوں کو چھونے لگی موجودہ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کی انتظامیہ میں مجموعی مائننگ لائسنسز 4970 کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکے ہیں جن میں 4133 آباد اضلاع اور 784 ضم شدہ اضلاع کے لائسنس شامل ہیں۔ لائسنسوں کی اس ریکارڈ بندر بانٹ اور من پسند افراد کی نوازشات کے باوجود جب صوبائی خزانے کی ابتر صورتحال پر سوال اٹھتا ہے تو مظلومیت کا کارڈ کھیلتے ہوئے غیر ملکی اور عسکری مداخلت کا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت کا خاتمہ اور وفاق کا متحرک ہونا ناگزیر ہوا کیونکہ پی ٹی آئی قیادت انسداد دہشت گردی کے قومی بیانیے اور حتمی آپریشنز میں یکسوئی دکھانے سے مسلسل........
