menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bulandion Ke Khwab Se Muslehaton Ke Neelam Tak

20 1
02.01.2026

یہ ایک المیہ ہے ایک ایسی داستان جس کا آغاز خوابوں کی بلندیوں سے ہوا اور اختتام دھول میں اٹی ہوئی فائلوں اور خاموش انجنوں پر ہو رہا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز محض ایک کمپنی نہیں تھی بلکہ یہ فضاؤں میں لہراتا ہوا پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تھا جس نے کبھی دنیا کو ہوا بازی کے آداب سکھائے تھے۔ وہ بھی کیا دن تھے جب پی آئی اے کی پرواز کا مطلب وقار تہذیب اور بے مثال مہمان نوازی ہوا کرتا تھا۔ اس کے جہازوں کی گھن گرج دنیا کے بڑے ایوانوں میں پاکستان کی معاشی مضبوطی اور بلند ہمتی کی نوید سناتی تھی۔ جب پی آئی اے نے اپنی پرواز کا آغاز کیا تو اس کی چمک دمک ایسی تھی کہ ایمریٹس اور سنگاپور ایئرلائنز جیسی آج کی دیو ہیکل کمپنیاں اس کے تجربے سے فیض یاب ہوئیں اس دور میں "باکمال لوگ لاجواب سروس" محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت تھی جس نے پیرس لندن اور نیویارک کے افق پر اپنی دھاک بٹھائی ہوئی تھی۔

​لیکن پھر وقت کا رخ بدلا اور اقربا پروری سیاسی مداخلت اور بدانتظامی کے دیمک نے اس عظیم الشان عمارت کو اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا۔ وہ ادارہ جو کبھی منافع کے پہاڑ کھڑے کرتا تھا آہستہ آہستہ خسارے کے گہرے سمندر میں ڈوبنے لگا۔ میرٹ کی جگہ من پسند افراد کی بھرتیوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا گلا گھونٹ دیا اور جدت پسندی کی جگہ سستی اور نااہلی نے لے لی۔ جہاز پرانے ہوتے گئے اور ان کے ساتھ ساتھ وہ جذبہ بھی دم توڑ گیا جس نے کبھی اسے دنیا کی بہترین ایئرلائن بنایا تھا۔ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جہاں دنیا کی دوسری ایئرلائنز ستاروں پر کمند ڈال رہی تھیں پی آئی اے اپنے ہی بوجھ تلے دبی رہی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہوا قرض اور گرتا ہوا معیار اس بات کا ثبوت بن گیا کہ جب کسی قومی اثاثے کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے تو عروج کا سورج زوال........

© Daily Urdu