Baqa Ki Jang Aur Akhri Maarke Ka Sakoot
بقا کی جنگ اور آخری معرکے کا سکوت
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے میں غیر معمولی تاخیر محض جنگی حکمت عملی نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ گہرے خدشات اور سٹرٹیجک الجھنیں ہیں جن کا سامنا اس وقت پوری دنیا کو ہے۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ایران کے مضبوط دفاعی نظام نے بڑی طاقتوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس بار چھیڑی جانے والی جنگ کا انجام صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کی تپش پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
یہ تاخیر دراصل اس خوف کی عکاسی ہے کہ کہیں ایک غلط فیصلہ مشرق وسطیٰ کو آگ کے ایسے ڈھیر میں نہ بدل دے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔ سفارتی لبادوں میں چھپی یہ خاموشی اس طوفان سے پہلے کا سکوت ہے جو اپنے دامن میں بے پناہ تباہی چھپائے ہوئے ہے۔ عالمی سیاست کے کھلاڑی بخوبی واقف ہیں کہ ایران پر ہاتھ ڈالنا کسی بارودی سرنگ پر قدم رکھنے کے مترادف ہے جہاں جیت کا جشن بھی ماتم کی صورت اختیار کر سکتا ہے اسی لیے طاقت کے ایوانوں میں فیصلے کی گھڑی مسلسل پیچھے ہٹ رہی ہے تاکہ کسی بڑے المیے سے بچا جا........
