menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aam Admi Ka Muqadma

29 0
18.06.2026

پاکستان کا مالی سال 2026-27 کا نیا بجٹ قومی اسمبلی میں ایک ایسے موڑ پر پیش کیا گیا ہے جہاں معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کے درمیان ایک کٹھن توازن پیدا کرنے کی کوشش صاف نظر آتی ہے۔ یہ بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں کئی حوالوں سے مختلف اور بہتر دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس میں محض خساروں کو پورا کرنے کی روایتی حکمت عملی کی بجائے معیشت کو پائیدار ترقی کی سمت گامزن کرنے کے واضح اشارے موجود ہیں۔ عوامی توقعات کے پیمانے پر اگر اسے پرکھا جائے تو یہ ملا جلا ردعمل سامنے لاتا ہے جہاں ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام کے لیے فوری اور غیر معمولی ریلیف کی خواہش پوری طرح تو پوری نہیں ہو سکی لیکن دوسری طرف طویل مدتی معاشی استحکام کی نوید ضرور ملتی ہے جو مستقبل میں عام آدمی کے حالات بدلنے کی ضامن بن سکتی ہے۔

بجٹ کے خدوخال میں زندگی کے تمام اہم شعبوں کو تفصیلی طور پر زیر بحث لایا گیا ہے جن میں زراعت صنعت صحت تعلیم اور سماجی بہبود کے پروگرام نمایاں ہیں۔ خاص طور پر زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کسانوں کو براہ راست امداد فراہم کرنے پر توجہ دی گئی ہے جبکہ صنعتی پہیے کو تیز کرنے کے لیے توانائی اور برآمدات کے شعبے میں بڑی مراعات دی گئی ہیں۔ حکومت نے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کرکے انسانی ترقی کو ترجیح دی ہے جس سے سماج کے پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں حقیقی اور مثبت تبدیلی لانے کی قوی امید ظاہر کی گئی ہے اور یہ امیدیں ملکی خوشحالی کا نیا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

نیا بجٹ عام آدمی کی تقدیر بدل پائے گا یا نہیں یہ ایک ایسا سلگتا ہوا سوال ہے جو ہر شہری کے دل میں بے چینی پیدا کر رہا ہے کیونکہ بجٹ دستاویزات میں سجائے گئے........

© Daily Urdu