Ustad Ka Chalk, Hamara Hisab
استاد کا چاک، ہمارا حساب
استاد جب پیریڈ ختم کرکے تختہ صاف کرتا ہے تو اس کی آستین اور انگلیوں پر سفید دھول رہ جاتی ہے۔ وہ اسے جھاڑ دیتا ہے اور اگلی جماعت میں وہی دھول پھر لگ جاتی ہے۔ ہم نے اس دھول کو کبھی کوئی معنی نہیں دیے۔ مگر چاک کو ذرا غور سے دیکھیں تو یہ دنیا کا عجیب آلہ ہے۔ قلم کی سیاہی ختم ہو تو دوات سے بھر لی جاتی ہے، مگر چاک جو کچھ لکھتا ہے اپنے ہی بدن سے لکھتا ہے۔ تختے پر ہر الف اس ٹکڑے کی قیمت پر ابھرتا ہے جو انگلیوں میں دبا ہے اور جب گھنٹی بجتی ہے تو ڈسٹر پھرتا ہے، لکھا ہوا مٹ جاتا ہے اور لکھنے والا ذرا سا چھوٹا ہو چکا ہوتا ہے۔ جو باقی بچتا ہے وہ کسی بچے کی کاپی میں اور کسی کے ذہن میں بچتا ہے۔
آج ٹیچرز ڈے ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ہم اس چاک کا حساب کریں۔
عربی میں "مدرسہ" اور "درس" جس مادے سے بنے ہیں، لغات میں اس کا ایک بنیادی مفہوم کسی نشان کا گھس کر مٹ جانا ہے۔ یہی مادہ پڑھنے کے معنی میں بھی آیا، یعنی کسی چیز کو بار بار دہرانا۔ دونوں مفہوم ایک دوسرے سے الگ نہیں لگتے۔ جس راستے پر بار بار چلا جائے وہ گھس کر پگڈنڈی بن جاتا ہے اور جس سبق کو بار بار دہرایا جائے وہ ذہن میں اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ لغت نے استاد کے بارے میں کوئی فیصلہ سنایا ہے۔ یہ میری اپنی پڑھت ہے۔ لیکن اگر دوسروں کے ذہن میں راستہ بنانا گھسنے کا عمل ہے تو یہ سوال ہم پر قرض ہے کہ اس راستے کو بنانے والا خود کتنا گھسا۔
اس سوال کا جواب میں ایک جماعت کے منظر سے دینا چاہتا ہوں۔ یہ کسی ایک مخصوص استاد کی کہانی نہیں، ان ہزاروں کی ہے جنہیں آپ نے اپنے محلے کے اسکولوں میں دیکھا ہوگا۔
مہینے کی اٹھائیس تاریخ ہے۔ ایک سرکاری یا چھوٹے نجی اسکول کی جماعت ہے، پنکھا آدھی رفتار سے گھوم رہا ہے اور پچاس کے قریب بچے ایک کمرے میں ہیں۔ استاد........
