menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Stethoscope Jo Ab Tarazoo Ban Chuka Hai

39 0
07.10.2026

سٹیتھوسکوپ جو اب ترازو بن چکا ہے

میرے دادا کے پاس ایک پرانا سٹیتھوسکوپ تھا، پیتل کا، بھاری اور اس پر وقت کے نشان صاف نظر آتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ آلہ دل کی دھڑکن نہیں، انسان کی پوری کہانی سنتا ہے۔ اب جب میں کسی جدید ہسپتال کی استقبالیہ کھڑکی پر کھڑا ہوتا ہوں، تو وہی آلہ مجھے ایک ترازو کی طرح دکھائی دیتا ہے، ایک پلڑے میں مریض کی تکلیف، دوسرے میں اس تکلیف کی قیمت۔ سوال یہ نہیں کہ علاج ملے گا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کتنے کا ملے گا۔

یہ کوئی نظریاتی بحث نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک قریبی رشتہ دار کی رپورٹ لینے ایک نجی لیبارٹری گیا۔ کاؤنٹر پر بل تھما دیا گیا، ایک عام بخار کی تشخیص کے لیے سات مختلف ٹیسٹ، جن میں سے کم از کم تین کا مرض کی علامات سے دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ رسید پر لکھی رقم اس وقت کی سرکاری کم از کم ماہانہ اجرت کے قریب تھی۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، یہ ایک نظام کا معمول ہے جو لاکھوں گھروں میں روز دہرایا جاتا ہے۔

اور یہ محض احساس یا مبالغہ نہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور عالمی بینک کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً آٹھ سو ملین افراد اپنی گھریلو آمدنی کا دس فیصد سے زیادہ حصہ صرف صحت پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں اور ان میں سے قریب سو ملین لوگ ہر سال محض علاج کے اخراجات کی وجہ سے انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیے جاتے ہیں۔ یہ کوئی دور دراز افریقی گاؤں کی کہانی نہیں، یہ اعداد و شمار لاطینی امریکہ، جنوبی ایشیا اور خود ہمارے پڑوس کی حقیقت ہیں۔ جب کوئی نظام اپنے صارف کو صحت یاب کرنے کے بجائے مقروض کرتا ہے، تو وہ نظام شفا کا نہیں، منافع کا ہے۔

یہاں ایک اعتراض فوراً........

© Daily Urdu