Qatar Mein Khari Qaum
ایک سرکاری ہسپتال کا او پی ڈی کاؤنٹر، صبح سویرے۔ سینکڑوں لوگ، اکثر بیمار، کچھ گود میں بچے اٹھائے، کچھ بزرگ لاٹھی ٹیکے، ایک لمبی قطار میں کھڑے ہیں۔ کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھا اہلکار اپنی رفتار سے کام کر رہا ہے، نہ جلدی نہ کسی احساس کے، جیسے وقت کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔ کوئی پوچھتا ہے کہ کتنی دیر اور لگے گی، تو جواب ملتا ہے: "بس تھوڑی دیر، بیٹھ جائیں"۔ یہ "تھوڑی دیر" کبھی کبھار تین گھنٹے میں بدل جاتی ہے۔ میں نے یہ منظر بینکوں میں، پاسپورٹ آفس میں، کچہری کے برآمدوں میں، یوٹیلیٹی بلوں کی قطاروں میں بار بار دیکھا ہے اور ہر بار ایک سوال ذہن میں کچوکے لگاتا ہے: ہم نے انتظار کو کب اور کیسے ایک قومی مزاج بننے دیا؟ یہ سوال بظاہر معمولی سا لگتا ہے، مگر اس کی جڑیں ہماری نوآبادیاتی وراثت، ریاستی رویے اور اجتماعی نفسیات میں گہرائی تک پیوست ہیں۔
انتظار کو اکثر صبر کی علامت کہہ کر مقدس بنا دیا جاتا ہے۔ ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ صبر ایک عظیم وصف ہے، کہ انتظار کرنے والا کبھی نقصان میں نہیں رہتا۔ یہ تعلیم بذاتِ خود غلط نہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ریاست اور اس کے ادارے اسی روایتی صبر کو اپنی نااہلی چھپانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ جب شہری کو تین گھنٹے قطار میں کھڑا رکھا جاتا ہے، تو اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ صبر کرنا اس کی مذہبی و اخلاقی ذمہ داری ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ نظام کی سستی اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔ صبر ایک انفرادی وصف سے نکل کر ایک اجتماعی سزا بن چکا ہے، جو کمزور اور بے اختیار شہری کو ہر روز بھگتنی پڑتی ہے۔
اس نظام کا ایک اور کڑوا پہلو یہ ہے کہ انتظار برابری کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتا۔ جس کے پاس اثر و رسوخ، رشوت........
