menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qarz Ki Zanjeer Aur Talwar Ki Chamak

54 0
19.09.2026

قرض کی زنجیر اور تلوار کی چمک

کراچی کی بندرگاہ پر، جہاں کنٹینروں کی قطاریں دستاویزات کی منظوری کا انتظار کرتی ہیں، ایک پرانے کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ نے اپنے نوجوان معاون سے صرف اتنا کہا: "بیٹا، درآمدی ڈیوٹی کی نئی شرح آ گئی ہے، مگر یہ مت پوچھنا کہ خزانے میں یہ رقم کہاں جائے گی"۔ معاون نے حیرت سے پوچھا: "کیوں سر؟" ایجنٹ نے فائل بند کرتے ہوئے جواب دیا: "کیونکہ جو رقم بندرگاہ کے دروازے پر آتی ہے، وہ اکثر پیچھے کے دروازے سے قرض چکانے میں نکل جاتی ہے۔ ہم صرف گیٹ کیپر ہیں، حساب کتاب کہیں اور ہوتا ہے"۔ یہی مختصر مکالمہ اس پورے تضاد کو کھول دیتا ہے جو ملک کے تازہ ترین وفاقی بجٹ میں دفن ہے: عدد بڑھا دینا اور طاقت بڑھ جانا، دو مختلف چیزیں ہیں۔

اس مالی سال کا وفاقی بجٹ پہلی بار دفاعی اخراجات کو تین کھرب روپے سے اوپر لے گیا۔ یہ اضافہ خلا سے نہیں آیا۔ گزشتہ برس مئی میں بھارت کے ساتھ جو مختصر مگر شدید محاذ آرائی ہوئی اور جس کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیانِ مرصوص کے ذریعے اپنی جوابی صلاحیت دکھائی، اس نے ریاست کے سکیورٹی حساب کتاب کو مستقل طور پر بدل دیا۔ اٹھارہ فیصد کا یہ اضافہ اسی نئے حساب کا نتیجہ ہے۔ بظاہر یہ ایک مضبوط، بروقت فیصلہ لگتا ہے، تلوار کی نئی چمک۔ مگر اسی بجٹ کے اگلے ہی صفحے پر ایک اور عدد چھپا بیٹھا ہے جو اس چمک کے پیچھے کی زنگ آلود زنجیر دکھا دیتا ہے: قرضوں کی ادائیگی کے لیے آٹھ کھرب روپے سے زائد، دفاعی بجٹ سے ڈھائی گنا زیادہ۔

یہاں تصویر مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ ایک ریاست جو اپنی خالص وفاقی آمدنی کا تقریباً 68 فیصد صرف سود اور قرض کی قسطوں میں دے رہی ہو، اپنی تلوار کتنی ہی تیز کر لے، اصل امتحان اس دن........

© Daily Urdu