Jamiaat Ke Nawabi Darbar: Fikri o Intizami Istibdad
جامعات کے نوابی دربار: فکری و انتظامی استبداد
دنیا بھر کی متمدن اور ترقی یافتہ قوموں میں جامعہ/یونیورسٹی کا مطلب ایک ایسا فکری آستانہ ہوتا ہے جہاں سوچ پر کوئی پہرا نہیں ہوتا، ایک ایسا مقدس چمن جہاں تنقیدی فکر، تحقیقی تشکیک اور حق کی جویا گفتگو کسی دفتری اجازت نامے کے بغیر جاری رہتی ہے۔ کسی بھی متحرک اور فعال علمی درسگاہ میں وائس چانسلر کوئی حاکمِ وقت یا مطلق العنان طاقت کا سرچشمہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے تمام اساتذہ اور دانشمندوں کے درمیان اول صف کا ساتھی اور ایک ایسا علمی رہنما ہوتا ہے جس کا بنیادی فرض فکری آزادی کا تحفظ ہے۔ لیکن اگر آپ آج پاکستان کی کسی سرکاری جامعات کی حدود میں قدم رکھیں، تو کیمپس کی فضا کسی جدید فکری مرکز کے بجائے اٹھارویں صدی کے کسی جاگیردارانہ دربار یا نوآبادیاتی دور کی کسی انتظامی چھاؤنی کا منظر پیش کرتی ہے۔ ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے، جنہیں قومی فکر اور دانش کا محرک ہونا چاہیے تھا، وہ اب ذاتی ریاستوں اور دفتری خودسری کے گڑھ بن چکے ہیں۔ اس ادارہ جاتی انحطاط کے عین مرکز میں ایک استبدادی انتظامی طبقہ براجمان ہے: یعنی جامعات کے نواب شاہ، ہمارے کیمپسز کے وائسرائے۔
یہ کوئی جذباتی لفاظی ہے نہ محض زبانی شکوہ، بلکہ وہ تلخ اور ساختیاتی حقیقت ہے جو قوم کے سائنسی، فکری اور اخلاقی وجود کو خاموشی سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ پاکستان میں وائس چانسلر کا منصب اب علمی قد کاٹھ، فکری اتھارٹی یا بصیرت افروز قیادت کا ترجمان نہیں رہا، بلکہ اسے بے لگام انتظامی اختیارات، نمائش پسندانہ پروٹوکول اور ادارہ جاتی غرور کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومتوں اور نگران اداروں کی بنائی گئی نام نہاد سرچ کمیٹیاں، اکثر ایک بظاہر جمہوری مگر کھوکھلا ڈراما ثابت ہوتی ہیں۔ ان رسمی کارروائیوں کے پسِ پردہ مراعات کا ایک ایسا پورا نظام کام کر رہا ہوتا ہے جہاں اکثر ایسے افراد کو........
