menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hum Riyasat Mein Nahi, Band Filon Mein Rehte Hain

32 0
10.10.2026

ہم ریاست میں نہیں، بند فائلوں کے سرد خانے میں رہتے ہیں

ہر تحصیل میں ایک ربڑ کی مہر پڑی ہے جس پر دو لفظ کندہ ہیں: "داخلِ دفتر"۔ ایک ضرب پڑتی ہے اور کسی کی چار برس کی دوڑ دھوپ، کسی کی عمر بھر کی کمائی اور کسی کا حق ریاست کے رجسٹر سے نکل جاتا ہے۔ نہ فائل پڑھی جاتی ہے، نہ سائل کو جواب ملتا ہے، نہ کسی کو اس کا نام یاد رہتا ہے۔ یہ اس ملک کا سب سے طاقتور اوزار ہے اور حیرت یہ ہے کہ اسے تھامنے والا ہاتھ اکثر کسی بڑے افسر کا نہیں ہوتا۔ صبح نو بجے کسی بھی دفتر کے برآمدے میں جا کھڑے ہوں، آپ کو وہ لوگ مل جائیں گے جن پر یہ مہر روز لگتی ہے اور آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کسی دفتر میں نہیں، ایک سرد خانے کے دروازے پر کھڑے ہیں، جہاں فائلیں بھی ٹھنڈی ہیں اور فریاد بھی۔

اس برآمدے کے ایک کونے میں ایک بوڑھا بیٹھا ہے۔ فرض کیجیے اس کا نام بشیر ہے۔ ساٹھ برس کا ریٹائرڈ کلرک، ہاتھ میں پلاسٹک کا شاپر اور شاپر میں گرہ لگا کر باندھی ہوئی ایک فائل جس میں اس کی ساری ملازمت سمٹی ہوئی ہے۔ چار برس سے وہ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو یہاں آتا ہے اور پنشن کا پوچھتا ہے۔ جواب ہمیشہ ایک ہی ملتا ہے: "کاغذ اوپر گیا ہوا ہے۔ " اوپر کہاں؟ کوئی نہیں بتاتا۔ کس نے بھیجا؟ کوئی نہیں بتاتا۔ بشیر نے اب سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ بس دھیمی آواز میں کہتا ہے: "بھائی، میری فائل کو ایک میز آگے سرکا دیجیے۔ " یہ شکوہ نہیں، کیونکہ شکوہ وہاں کیا جاتا ہے جہاں کوئی سننے والا ہو۔ یہ دعا ہے، جو وہ فرنیچر سے مانگ رہا ہے۔

اس کے برابر ایک مزدور کھڑا ہے جس کی تین مہینے کی اجرت ٹھیکیدار دبا بیٹھا ہے۔ تھانے کے منشی نے اس سے کہا کہ پہلے تحریری درخواست لاؤ اور درخواست لکھوانے کے سو روپے بھی اسے ادھار لینے پڑے۔ ذرا آگے ایک بیوہ ہے جو چاہتی ہے کہ شوہر کی زمین اس کے بچوں کے نام لگ جائے اور پٹواری اسے اپنی فیسیں اور "خدمت کے خرچے" گنوا رہا ہے۔ ان سب کے بیچ ایک ایم اے پاس نوجوان ہے جس کے ہاتھ میں میرٹ لسٹ کی فوٹو کاپی ہے۔ اسے بتایا گیا ہے کہ نام تو سب سے اوپر ہے، مگر ابھی "بات نہیں ہوئی"۔ ان میں سے کوئی چیخ نہیں رہا، کوئی ہاتھ نہیں اٹھا رہا۔ اس تصویر کا سب سے ڈراؤنا پہلو یہی خاموشی ہے۔

اب اس جگہ کی زبان سنیے، کیونکہ ریاست اپنا اعترافِ جرم اپنی گرامر میں کر دیتی ہے۔ "فائل بھیج دی گئی ہے۔ " "معاملہ زیرِ غور ہے۔ " "کارروائی جاری ہے۔ " ہر جملہ مجہول کے صیغے میں ہے۔ بھیجنے والا کون ہے؟ غور کون کر رہا ہے؟ کارروائی کس کے ہاتھ میں ہے؟ جملوں میں کوئی نہیں۔ کاغذ پر جو کچھ ہوتا ہے، موسم کی طرح آپ ہی آپ ہو جاتا ہے۔ ہنا آرنٹ نے نوکر شاہی کو ایسی حکمرانی کہا تھا جس میں کوئی ایک شخص بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، یعنی "کوئی نہیں" کی حکمرانی۔ یہ اصطلاح ہمارے برآمدوں پر لفظ بہ لفظ صادق آتی ہے۔ جہاں کرنے والا کوئی نہ ہو، وہاں جواب دینے والا بھی کوئی نہیں ہوتا اور جہاں جواب دینے والا کوئی نہ ہو، وہاں حکومت نہیں رہتی، موسم رہ جاتا ہے۔

فرانز کافکا کی ایک مختصر تمثیل ہے جس میں ایک دیہاتی عمر بھر قانون کے دروازے پر بیٹھا اندر جانے کی........

© Daily Urdu