menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Degree Ka Kafan, Tehqeeq Ki Mayyat

25 0
24.10.2026

ڈگری کا کفن، تحقیق کی میت

ہر سمسٹر کے آخر میں ہماری جامعات میں ایک خاموش جنازہ اٹھتا ہے۔ مقالہ سلیقے سے جلد ہو چکا ہوتا ہے، سرورق پر سنہری حروف جگمگا رہے ہوتے ہیں، دستخط ثبت ہو چکے ہوتے ہیں۔ وائیوا کی چائے، مٹھائی اور بیچارے ریسرچ سکالر کے خرچ پر پُرتکلف لنچ کے بعد مقالہ الماری میں جا بیٹھتا ہے۔ تدفین مکمل ہو جاتی ہے۔ پھر قبر پر فاتحہ پڑھنے، یعنی اسے دوبارہ کھول کر پڑھنے، کوئی نہیں آتا۔ یا شاید کوئی آتا ہو، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا نظام یہ جاننے کی زحمت ہی نہیں کرتا۔

پہلے اپنے دعوے کی حد طے کر لوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر مقالہ قاری کو ترستا رہ جاتا ہے، میرے پاس اس کا ثبوت نہیں۔ میرا دعویٰ اس سے چھوٹا مگر زیادہ چبھتا ہوا ہے: قاری دو طرح کا ہوتا ہے اور ہم نے صرف ایک کا بندوبست کیا ہے۔ ایک وہ جو جانچتا ہے، یعنی ممتحن اور جریدے کا مدیر۔ دوسرا وہ جو برتتا ہے، یعنی جو اس تحقیق سے کوئی سوال اٹھائے، کوئی نتیجہ اخذ کرے، کوئی فیصلہ بدلے۔ ہم نے جانچنے والوں کی قطار لگا دی ہے اور برتنے والے کی کرسی خالی رکھی ہے۔

جانچنے والوں کی موجودگی سے انکار انصاف نہیں ہوگا۔ ایچ ای سی کی تحقیقی اشاعت اور بیرونی ممتحنین سے متعلق پالیسی کی جو نقل میرے سامنے آئی، اس کے مطابق پی ایچ ڈی مقالے کا کم از کم دو بیرونی ماہرین سے جائزہ ضروری ہے اور امیدوار کو بطور پہلا مصنف اپنی تحقیق پر مبنی مضمون شائع کرانا ہوتا ہے، سماجی علوم میں ایچ ای سی کی درجہ بندی کے مطابق ایک "ایکس" یا دو "وائی" درجے کے جرائد میں۔ جو جامعاتی پالیسیاں میں نے دیکھیں، ان میں اشاعت کی شرط پی ایچ ڈی تک محدود تھی۔ گویا زندگی میں مریض کی عیادت خوب ہوتی ہے، سوال مرنے کے بعد کا ہے۔ یہ ساری شرطیں ڈگری سے پہلے کی ہیں۔ ڈگری ملتے ہی جانچ کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور برتنے کا سلسلہ کبھی شروع ہی نہیں ہوتا۔

یہی حال مماثلت کی جانچ کا ہے۔ ٹرنیٹن کی ہدایات کے مطابق مماثلت........

© Daily Urdu