Maholiyat Ka Alimi Dan, Zameen Ki Khamosh Pukar
ماحولیات کا عالمی دن، زمین کی خاموش پکار
دنیا میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض تقویم کی ایک تاریخ نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک اجتماعی کوشش ہوتے ہیں۔ 5 جون کو منایا جانے والا عالمی یوم ماحولیات بھی ایسا ہی دن ہے۔ یہ محض ایک عالمی دن نہیں بلکہ زمین کی وہ خاموش چیخ ہے جو ہر سال انسانیت کو خبردار کرتی ہے کہ اب بھی وقت ہے، سنبھل جاؤ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی یومِ ماحولیات کی بنیاد 1972 میں اقوام متحدہ میں ہونے والی ایک ماحولیاتی کانفرنس کے بعد رکھی گئی۔ اس کانفرنس میں پہلی مرتبہ دنیا نے اجتماعی طور پر تسلیم کیا کہ اگر ماحولیات کو نظر انداز کیا گیا تو انسانی ترقی خود اپنے وجود کے لیے خطرہ بن جائے گی۔ ایک سال بعد 1973 میں پہلی بار عالمی یومِ ماحولیات منایا گیا اور آج 150 سے زائد ممالک اس مہم کا حصہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا ہر سال تقریباً ایک کروڑ ہیکٹر جنگلات سے محروم ہو رہی ہے۔ یہ رقبہ تقریباً ایک ایسے ملک کے برابر ہے جو ہر سال نقشے سے غائب ہو جائے۔ دوسری طرف پلاسٹک آلودگی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ سائنس دانوں نے انسانی خون، پھیپھڑوں اور یہاں تک کہ نومولود بچوں کے جسموں میں بھی مائیکرو پلاسٹک کے ذرات دریافت کیے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سائنس فکشن کہانی کی نہیں بلکہ موجودہ دور کی تلخ حقیقت ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی لگتا ہے لیکن یہی چند ڈگریاں دنیا بھر میں سیلاب، خشک سالی، جنگلاتی آگ اور شدید موسمی واقعات کی شدت میں کئی گنا اضافہ کر رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فطرت انتقام نہیں لیتی، وہ صرف حساب برابر کرتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دنیا نے یہ حساب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ 2024 اور 2025 تاریخ کے گرم........
