menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wadon Ka Mosam Aur Haqiqat Ka Sehra

27 0
27.04.2026

وعدوں کا موسم اور حقیقت کا صحرا

ہمارے نمائندے الیکشن سے پہلے وعدوں کی بارش کرتے ہیں مگر اقتدار ملتے ہی وہی وعدے ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی نئی کہانی نہیں بلکہ ایک مسلسل چلنے والا المیہ ہے۔ اپنی زندگی میں شاید ہی کوئی ایسا امیدوار یا سیاسی جماعت دیکھی ہو جس نے انتخابی وعدوں کو واقعی عملی جامہ پہنایا ہو چاہے پاکستان ہو یا گلگت بلتستان ہر جگہ الفاظ کا جادو تو ہے مگر عمل کی روشنی کم ہی نظر آتی ہے۔ 2024 کے انتخابات میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ بڑے بڑے نعرے دلکش دعوے کہ غریبوں کو تین سو یونٹ بجلی مفت دی جائے گی بجلی کا بل حکومت خود ادا کرے گی۔ مگر جب حقیقت کا وقت آیا تو سب وعدے دم توڑ گئے نتیجہ وہی نکلا جو ہمیشہ نکلتا ہے عوام کے ہاتھ مایوسی اور حکمرانوں کے حصے میں مراعات 11 ارب کا جہاز اور عیاشی۔

اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ اپنی چھتوں پر اپنے خرچ سے سولر سسٹم لگاتے ہیں۔ اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں مگر اس پر بھی ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ عوام کا اپنا ہے چھت بھی سرمایہ بھی بجلی بھی تو پھر یہ ٹیکس کیسا؟ یہ کیسا انصاف ہے اس سے بھی زیادہ حیران کن بات عوام کا رویہ ہے ہم بحیثیت قوم شاید بہت جلد بھول جاتے ہیں کل کے وعدے آج کی........

© Daily Urdu