Qarz e Muakhar Par Jashan Kaisa?
قرض مؤخر پر جشنِ کیسا؟
قومیں بھی عجیب ہوتی ہیں مگر ہم شاید ان سب میں بھی انوکھے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر قرض اتر جائے تو خوشی سمجھ میں آتی ہے مگر اب تو قرض کی صرف تاریخ آگے بڑھ جائے تو ڈھول بجنے لگتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خزانے سونے سے بھر گئے ہوں غربت تاریخ کا حصہ بن گئی ہو اور معاشی انقلاب دروازے پر دستک دے رہا ہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرض نہ ختم ہوا ہے نہ معاف ہوا ہے نہ اس میں کوئی معجزاتی کمی آئی ہے صرف اتنا ہوا ہے کہ قرض خواہ نے کہا ابھی نہیں، کچھ عرصہ بعد دے دینا۔
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی ساہوکار مقروض کے دروازے پر آئے مقروض ہاتھ جوڑ کر ایک مہینے کی مہلت مانگے اور ساہوکار مان جائے اگر اس کے بعد پورا محلہ مبارک باد دینے آ جائے تو یقیناً لوگ اس محلے کی عقل پر سوال اٹھائیں گے لیکن قومی سطح پر یہی منظر ہمیں معمول لگنے لگا ہے بلکہ ہم اس ادھوری خوشی کے عادی مجرم بن گئے ہیں۔ ہم نے اپنی سوچ کا معیار اس قدر گرا لیا ہے کہ اصل کامیابی اور وقتی ریلیف میں فرق کرنا بھول گئے ہیں۔ قرض لینا مجبوری ہو سکتی ہے مگر قرض پر فخر کرنا یا اس کی قسط مؤخر ہونے پر جشن منانا ذہنی غلامی کی بدترین علامت ہے غلام صرف زنجیروں سے نہیں پہچانے جاتے بعض اوقات وہ مسکراتے ہوئے اپنی زنجیروں کو ہی زیور سمجھنے لگتے ہیں۔
افسوس اس بات کا بھی ہے........
