Pasand Ki Shadi Ghairat Ke Naam Par Insaniyat Ka Qatal
پسند کی شادی غیرت کے نام پر انسانیت کا قتل
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
کیا انسان اکیسویں صدی میں بھی اتنا وحشی ہوسکتا ہے کہ اپنی انا، ضد اور نام نہاد غیرت کی خاطر ایک ہنستے بستے گھر کو قبرستان بنا دے؟ کیا کسی لڑکی کا اپنی پسند سے زندگی کا ساتھی منتخب کرلینا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا صرف اسے ہی نہیں بلکہ اس کے شوہر اور ان معصوم بچوں کو بھی موت کی صورت میں دی جائے جنہیں ابھی دنیا کے دکھوں اور نفرتوں کا مطلب تک معلوم نہیں؟
سکردو کا حالیہ واقعہ صرف چار انسانوں کا قتل نہیں یہ ہماری اجتماعی سوچ معاشرتی تربیت اخلاقی اقدار اور انسانیت کے دعووں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکردو کے علاقے مدینہ کالونی میں ایک نوجوان کا تعلق اسکردو کے علاقے تلو بروق سے تھا جبکہ اس کی اہلیہ کا تعلق پاراچنار سے تھا دونوں نے تقریباً چھ سال قبل پسند کی شادی کی تھی اور ان کے ہاں دو بچے بھی پیدا ہوئے۔ ایک پانچ سالہ بیٹی اور دوسرا ڈھائی سالہ بیٹا دونوں اپنی چھوٹی سی دنیا میں زندگی گزار رہے تھے مگر 30 اکتوبر 2026ء کو سامنے آنے والی خبروں کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے اس خاندان کے چاروں افراد کو بے دردی سے قتل کردیا پولیس اس واقعے کو ممکنہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کے پہلو سے دیکھ رہی ہے تاہم ملزمان اور محرکات کی حتمی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ان دو معصوم بچوں کا قصور کیا تھا؟ انہوں نے کس کی عزت پامال کی تھی؟ کس کی انا کو چوٹ پہنچائی تھی؟ وہ تو ابھی اس دنیا میں محبت، نفرت، رشتوں اور دشمنیوں کے مفہوم سے........
