Islam Salamti Ka Mazhab Hai Phir Musalman Be Aman Kyun Hain?
اسلام سلامتی کا مذہب ہے پھر مسلمان بے امن کیوں ہیں؟
اسلام کا نام ہی سلامتی امن اور خیر کا پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اسلام انسان کو صرف عبادات کا طریقہ نہیں بتاتا بلکہ اسے ایک ایسا معاشرتی نظام بھی دیتا ہے جس کی بنیاد عدل، رحم، مساوات، امانت، برداشت اور انسانی جان کی حرمت پر قائم ہے۔ قرآن انسان کی جان کو اتنی اہمیت دیتا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیتا ہے مگر آج اگر کوئی شخص دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائے تو ایک تلخ سوال اس کے سامنے ضرور کھڑا ہوگا اگر اسلام سلامتی کا مذہب ہے تو مسلم دنیا میں سلامتی اتنی کم کیوں دکھائی دیتی ہے؟
یہ سوال اسلام سے نہیں ہم مسلمانوں سے ہے۔ آج کہیں جنگ ہے کہیں خانہ جنگی کہیں سیاسی انتقام کہیں فرقہ وارانہ کشیدگی کہیں غربت اور بھوک کہیں پناہ گزینوں کی بے بسی اور کہیں اقتدار کی خاطر اپنے ہی لوگوں کو تقسیم کرنے کا کھیل ہر جگہ صورت حال ایک جیسی نہیں لیکن مجموعی منظرنامہ ضرور ہمیں اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم اکثر اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار بیرونی طاقتوں کو قرار دے کر مطمئن ہوجاتے ہیں یہ حقیقت اپنی جگہ کہ عالمی سیاست میں مفادات طاقت کی کشمکش اور مداخلتیں موجود ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اپنی کمزوریاں بھی ان حالات کو پیدا کرنے یا بڑھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتیں؟
اگر گھر کی کھڑکی کھلی ہو تو چور کو الزام دینا آسان ہے مگر کھڑکی کھلی رکھنے والے کو بھی اپنے حصے کا جواب دینا پڑتا ہے اسلام نے حکمران کو مالک نہیں امانت دار بنایا اسلامی تصورِ حکمرانی میں اقتدار کوئی ذاتی جاگیر نہیں حکمران عوام کا مالک نہیں بلکہ ان کے حقوق کا محافظ اور ان کے سامنے جواب دہ ہے۔ مگر جب اقتدار خدمت کے بجائے مفاد بن جائے جب حکمران عوام سے دور اور اپنے مفادات کے قریب ہوجائے جب قانون کمزور کے لیے........
