Insaniyat Kahan Hai?
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسروں کے کردار کا احتساب کرنے سے پہلے اپنے اندر جھانکیں اور خود سے ایک سوال کریں ہم انسان تو ہیں، مگر کیا ہمارے اندر انسانیت بھی زندہ ہے؟ کیونکہ معاشرے نعروں، تقریروں اور دعوؤں سے نہیں کردار سے بنتے ہیں اگر کسی کے دکھ پر دل نہ پگھلے کسی کی بھوک ہمیں بےچین نہ کرے کسی مظلوم کی چیخ ہماری نیند نہ چھینے اور کسی کمزور کے حق کے لیے ہماری زبان نہ کھلے تو پھر ہمارے زندہ ہونے کا کیا معنی؟ یاد رکھیے، انسانیت ایک دن میں نہیں مرتی یہ ہماری چھوٹی چھوٹی بےحسیوں مصلحتوں اور خاموشیوں میں روز تھوڑی تھوڑی دم توڑتی ہے انسان تو آج بھی بہت ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ انسانیت کہاں ہے؟ شاید وہ ہمارے الفاظ میں نہیں ہمارے کردار میں دفن ہے اور اسے دوبارہ زندہ کرنا بھی ہمیں ہی ہے۔
ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں انسانوں کی کمی نہیں مگر انسانیت کم ہوتی جا رہی ہے ہمارے گرد ہر طرف انسانی چہرے ہیں چلتے پھرتے جسم ہیں بولتی زبانیں ہیں تعلقات کے دعوے ہیں اخلاقیات کے درس ہیں مگر ان سب کے درمیان انسانی کردار کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے یہ صرف معاشرتی بےحسی نہیں یہ اس سے کہیں بڑا المیہ ہے یہ انسان کے اندر موجود انسان کے زوال کی کہانی ہے۔ ہم بظاہر ایک معاشرہ ہیں مگر حقیقت میں شاید صرف انسانی شکلوں کا ایک ایسا ہجوم بنتے جا رہے ہیں جس میں ہر شخص دوسرے کو دیکھ تو رہا ہے مگر محسوس نہیں کر رہا سن تو رہا ہے مگر سمجھ نہیں رہا اور قریب تو ہے مگر انسان سے انسان کا رشتہ مسلسل دور ہوتا جا رہا ہے۔
ہم سب اسی معاشرے کا حصہ ہیں اس لیے اس کے زوال کا تماشائی بن کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے یہ معاشرہ ہم سے بنا ہے ہماری سوچ سے ہمارے رویوں........
