Gilgit Baltistan Intikhabat 2026
گلگت بلتستان انتخابات 2026
گلگت بلتستان میں عام انتخابات 2026 کا عمل ایک بار پھر پورے شور و غوغا کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی سے لے کر انتخابی مہم تک ہر منظر بظاہر جمہوری سرگرمیوں سے بھرپور دکھائی دیتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی جمہوریت کا سفر ہے یا محض مفادات کے گرد گھومتا ایک پرانا کھیل؟
یہ خطہ اپنی جغرافیائی اہمیت قدرتی وسائل اور حساس آئینی حیثیت کے باعث ہمیشہ مرکزِ نگاہ رہا ہے لیکن افسوس کہ 78 برس گزر جانے کے باوجود بھی گلگت بلتستان آج تک اپنے بنیادی آئینی حقوق سے محروم ہے۔ یہ محرومی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی بے حسی اور نمائندوں کی ترجیحات کا شاخسانہ ہے جہاں عوام نہیں بلکہ ذاتی مفادات اقتدار کی رسہ کشی اور وقتی فائدے اصل محور بن چکے ہیں۔
مورخہ 13 اپریل 2026 کے تحت انتخابی عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور 20 اپریل 2026 تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ جاری ہے۔ بظاہر یہ ایک آئینی اور منظم عمل ہے جس میں فارم-A، فارم-B، بینک اکاؤنٹ سیکیورٹی ڈپازٹ اور دیگر قانونی تقاضے شامل ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف کاغذات کی درستگی ہی جمہوریت کی ضمانت ہے۔ اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انتخابات کا مقصد عوامی مسائل کا حل نہیں بلکہ اقتدار کا حصول بن چکا ہے وہی چہرے وہی وعدے وہی نعرے مگر نتائج ہمیشہ ایک جیسے۔
سڑکیں اب بھی کچی ہسپتال اب بھی ویران تعلیمی ادارے اب بھی وسائل کے منتظر اور نوجوان اب بھی بے روزگاری کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں کے نمائندے عوام کے وکیل کم اور اپنے مفادات کے محافظ زیادہ بن چکے ہیں۔ انتخابی موسم میں عوام کو یاد کیا جاتا ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہی وہی عوام ایک بوجھ بن جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دہائیوں گزرنے کے باوجود یہ خطہ آئینی شناخت بااختیار اسمبلی اور مکمل حقوق کے لیے آج بھی منتظر ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک انتخابات کا معیار صرف جیتنے تک محدود رہے گا اور اس بات پر توجہ نہیں دی جائے گی کہ کیسے جیتا گیا اور کس مقصد کے لیے جیتا گیا تب تک جمہوریت محض ایک رسمی عمل ہی رہے گی۔ شفافیت دیانتداری اور قانون کی پاسداری اپنی جگہ اہم ہیں مگر اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ نیت شفاف ہو اور ترجیحات عوامی ہوں۔ آج گلگت بلتستان کا باشعور ووٹر پہلے سے زیادہ سوال کر رہا ہے وہ صرف نعروں سے مطمئن نہیں، بلکہ کارکردگی وژن اور آئینی جدوجہد کا تقاضا کر رہا ہے اگر اس بار بھی وہی روایتی سیاست دہرائی گئی تو یہ صرف ایک اور انتخاب نہیں ہوگا بلکہ ایک اور کھویا ہوا موقع ہوگا۔
سیاسی جماعتوں امیدواروں اور اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس انتخابی عمل کو محض ایک رسمی کارروائی نہ بننے دیں بلکہ اسے حقیقی معنوں میں عوامی امنگوں کا ترجمان بنائیں ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ گلگت بلتستان میں انتخابات تو ہوتے رہے، مگر جمہوریت کبھی نہ آسکی۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اصل جنگ اقتدار کی نہیں بلکہ شعور کی ہے اگر عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچان لیا اور ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی بھلائی کو ترجیح دی تو شاید یہ انتخابات ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں بصورت دیگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا چہرے بدلیں گے حالات نہیں۔ یہ صورتحال محض ایک سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی و فکری بحران ہے جس کی جڑیں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جب کسی خطے میں عوامی مفاد پسِ پشت چلا جائے اور ذاتی مفاد گروہی وابستگیاں اور وقتی فائدے فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیں تو پھر باہر سے آنے والی ہر طاقت کے لیے راستہ خود بخود ہموار ہو جاتا ہے یہی کچھ گلگت بلتستان میں ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی باہر کا مافیا یہاں سرگرم ہے بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ مقامی سطح پر ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنے وقتی مفاد کے لیے ہر دروازہ کھولنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ جب اندر سے کمزوری ہو تو باہر والے کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی یہی وجہ ہے کہ جن قوتوں کی شہرت کرپشن، مفاد پرستی اور موقع پرستی سے جڑی ہوئی ہے وہ یہاں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں کیونکہ انہیں مزاحمت نہیں بلکہ شراکت دار مل جاتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو وہ سماجی تقسیم ہے جس کا آپ نے ذکر کیا فرقہ واریت، علاقائی تعصب اور باہمی عدم اعتماد ایک منقسم معاشرہ کبھی بھی اپنے اجتماعی حقوق کے لیے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ جب قوم شناخت کے بجائے گروہوں میں بٹ جائے تو پھر ہر گروہ اپنے چھوٹے مفاد کے لیے کسی بڑے نقصان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اجتماعی مفاد ہمیشہ قربان ہو جاتا ہے یہ کہنا کہ یہاں ہر چور کھیل کھیلتا ہے۔ دراصل اسی تلخ حقیقت کی عکاسی ہے کہ احتساب کا نظام کمزور ہے اور عوامی دباؤ مؤثر نہیں جہاں ووٹ نظریے کارکردگی اور دیانتداری کے بجائے تعلقات، برادری یا وقتی فائدے پر دیا جائے وہاں اچھے لوگ خود بخود پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور میدان انہی کے لیے خالی رہ جاتا ہے جو کھیل کھیلنا جانتے ہیں۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ امید کا ہے۔ یہی عوام اگر اپنی ترجیحات بدل لیں، فرقہ واریت اور تعصب سے اوپر اٹھ کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں تو کوئی بھی مافیا زیادہ دیر تک یہاں نہیں ٹھہر سکتا۔ اصل طاقت اب بھی ووٹر کے پاس ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ اسے پہچانے اور استعمال بھی کرے گلگت بلتستان کا مسئلہ قیادت کا نہیں سمت کا ہے جب سمت درست ہو جائے تو قیادت خود پیدا ہو جاتی ہے لیکن جب سمت ہی مفاد پرستی، تقسیم اور وقتی فائدے کی طرف ہو تو پھر نتائج بھی ویسے ہی نکلتے ہیں جو آج سب کے سامنے ہیں پنجاب میں جو کریپشن اور دو نمبری میں مشہور ہیں وہ گکگت بلتستان میں استحکام پارٹی بنا کر عوام کو تقسیم کرنے میں مصروف ہیں اب عوام کو پہلے سے زیادہ جاگنے اور سوچنے کی ضرورت ہے۔
