Dair Ho Chuki Hogi
جمہوریت کے نام پر یہ جو تماشا لگا ہے اسے اگر کوئی کھیل سمجھتا ہے تو وہ یا تو بہت معصوم ہے یا پھر بہت مفاد پرست۔ یہ کھیل نہیں ایک ایسا اسٹیج ڈرامہ ہے جس میں کردار بدلتے ہیں مکالمے وہی رہتے ہیں اور تماشائی یعنی عوام ہر بار پہلے سے زیادہ لُٹے ہوئے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ یہ نورا کشتی اب محاورہ نہیں ایک مکمل نظام بن چکی ہے ایک طرف زرداری کی سیاسی ذہانت ہے جو ہر موسم میں زندہ رہنے کا ہنر جانتی ہے تو دوسری طرف شہباز سپیڈ کی وہ رفتار ہے جو صرف بیانات میں نظر آتی ہے زبان سے ادا ہوتی ہے۔ زمینی حقیقت میں نہیں دونوں کی سیاست کا نچوڑ اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے اقتدار نہ نظریہ نہ عوام نہ اصول اور اس سارے کھیل کے اوپر ایک سایہ ہے وہ جسے حرف عام میں چوکیدار کہا جاتا ہے۔ یہ چوکیدار کبھی محافظ بنتا ہے کبھی منصف اور کبھی خود ہی کھلاڑی جمہوریت کی بساط پر اصل........
