Ataai Sahafi Hoshiyar Bash
اتائی صحافی ہوشیار باش
پاکستان میں صحافت ہمیشہ ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں قلم کو تلوار سے زیادہ طاقتور مانا گیا، جہاں سچ بولنا ایک عبادت اور عوامی مسائل اجاگر کرنا فرض سمجھا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس پیشے میں کچھ ایسے "عناصر" بھی شامل ہو گئے جنہوں نے صحافت کے تقدس کو مجروح کیا۔ یہ وہی عناصر ہیں جنہیں آج کل "اتائی صحافی" کہا جاتا ہے، ایسے لوگ جو نہ تو پیشہ ورانہ تربیت رکھتے ہیں، نہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں، مگر سوشل میڈیا کے ذریعے خود کو صحافی ظاہر کرکے معاشرے میں انتشار پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ پچھلے دنوں اسی طرح ذوالفقار راحت نامی صحافی نے پاک فوج کےسربراہ بارے حیران کن فیک اور جھوٹ پر مبنی باتیں پھیلائیں۔
اسی ضمن میں وزارت داخلہ پاکستان کی جانب سے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔ اس اتھارٹی کے قیام کے ساتھ ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں اہم شخصیات کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اس فہرست کے مطابق مسٹر ایاز شوکت کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ممبران میں مسٹر سہیل اقبال، مسٹر عدنان خان، مسٹر محمد سلمان ظفر، مسٹر فہد ملک اور مسٹر محمد سعد علی شامل ہیں۔
یہ تقرریاں بظاہر ایک انتظامی قدم ہیں، مگر اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ کیونکہ پہلی بار سوشل میڈیا کے بے لگام میدان میں ایک ایسا ادارہ متعارف کرایا گیا ہے جو نہ صرف نگرانی کرے گا بلکہ کارروائی کا........
