menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Thokarein Khaate Mareez

20 0
06.08.2026

لاہور جنرل ہسپتال ایک بڑا ٹرشری کئیر ہسپتال ہے اور پچھلے کافی عرصہ سے مسائل کا شکار ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ہسپتال کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تباہ کیا جارہا ہے۔ ویسے تو سارے ہی سرکاری ہسپتال تجربات کی نذر ہو چکے ہیں لیکن اس ہسپتال کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ میں یہاں کچھ مریضوں کو حال بیان کروں گا جس کے اندر سے ہسپتال کے حقیقی مسائل کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

تین اگست کی بات ہے کہ ایک مریض نے رابطہ کیا۔ وہ معدہ کے مسائل سے دوچار تھی۔ میڈیکل آوٹ ڈور میں چیک آپ کروایا تو ڈیوٹی ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ مریض کی انڈوسکوپی ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر نے ہسپتال کے آنلائن سسٹم میں اپنے نسخہ پر انڈوسکوپی تفویض بھی کردی جس کا سکرین شارٹ بھی مریض کو دے دیا گیا۔ مریض جب ڈھونڈتا ہوا مین آوٹ ڈور ڈیسک پر پہنچا تو اسے کہا گیا کہ پہلے گیسٹرو وارڈ سے انڈوسکوپی کاونٹر سے ٹیست کے لئے وقت لیں پھر فیس جمع ہوگی۔ مریض کافی دیر تک انڈوسکوپی کے لئے اپوائنٹمنٹ لینے کے لئے قطار میں کھڑا رہا۔ ڈیسک پر ایک سٹاف موجود تھی جو رجسٹر پر مختلف تاریخوں میں مریضوں کو اپوائنٹمنٹ دے رہی تھی۔ وہ نہایت سست روی سے اپنی ڈیوٹی دے رہی تھی جیسے کسی نے زبردستی اسے وہاں بیٹھنے پر مجبور کر رکھا ہو۔ کوئی چالیس منٹ کے بعد جب میرے مریض کی باری آتی تو اس سٹاف نے کہا کہ آپ کو ڈاکٹر نے انڈوسکوپی تفویض نہیں کی ہے۔ جس پر مریض نے سٹاف کو موبائل سے ڈاکٹر کا نسخہ اور انڈوسکوپی کروانے کا مشورہ کا سکرین شارٹ دکھایا تو سٹاف نے کہا کہ ہم آنلائن نسخہ کو نہیں مانتے اس لئے آپ ڈاکٹر سے لکھوا کر لائیں۔

حکومت پنجاب، محکمہ صحت اور خود جنرل ہسپتال کی انتظامیہ چیخ چیخ کر کہتے ہیں........

© Daily Urdu