menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rangeelay Hukumran

12 1
28.01.2026

آخر پچیس سال کی طویل پابندی کے بعد بسنت منانے کی خواہش کیوں پھوٹی ہے اور وہ کلچرل تہوار جس کو خود ن لیگ کی گزری حکومتوں نے خونی تہوار کہہ کر بند کرنے کے نعرے لگائے تھے آج ایک دم سے اس تہوار کو منانے کی ضد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

اس وقت تمام سماجی اور تجارتی حلقے بسنت کے گڑھے مردے کو اکھاڑنے کے خلاف ہیں لیکن پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں کہ ہر صورت اس تہوار کو منانا چاہتی ہیں اور اس بسنت کے زندہ ہونے سے کتنی جانیں ضائع ہوں گی اور کتنے ہی خاندانوں کی شرافت پر پولیس کی خونخوار ایف آئی آر درج ہوں گی اور لوگوں کی زندگیوں میں اضطراب جنم لے گا اس کی ان حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں ہے اور پھر بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے طوفان میں اور مہنگائی کی جان لینے والی عفریت میں رنگ برنگی پتنگوں کی بہار دیکھنے کی خواہش میں جانے یہ حکمران کیوں اندھے ہوئے جاتے ہیں کہ جب چاہا عوام سے ان کی خوشیاں چھین لیں اور جب اپنی خواہش ہوئی تو دوبارہ ان کو اپنی خواہشات تھوپ دیں اور پھر خود کو جمہوری حکمران ثابت کرنے کے نعرے بھی لگاتے ہیں۔

ان حکمرانوں کے وہ کون سے مشیر ہیں جو پچیس سال تک بسنت پر پابندی لگائے رکھنے کے مشورے دیتے رہے اور اسی پتنگ بازی کو خونی کھیل کہتے تھے اور آج ایک دم سے اس تہوار کو زندہ کرکے خود کو امر کرنے کے مشورے دیتے نہیں تھکتے ہیں۔ پچیس سال میں ایک پوری نسل گزر گئی جو اس تہوار کے اندر خوشیاں اور موج میلہ........

© Daily Urdu