menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nikammay Hukumran, Awam Pareshan

27 0
04.04.2026

نکمے حکمران، عوام پریشان

فقیر ہمیشہ مسائل کا رونا رو کر بھیک مانگتا ہے وہ ساری زندگی یہ نہیں سوچتا کہ اسے ہاتھ پھیلانے کی بجائے کوشش کرکے روزگار ڈھونڈنا چاہئیے۔ ناکام افراد کا بھی یہی وطیرہ ہے کہ وہ نئے وسائل اور نئے مواقع ڈھونڈنے کی بجائے دستیاب وسائل کی کھینچا تانی کرکے ان کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ کل جب موصوف علی پرویز ملک جو وزیر پٹرولیم ہیں اور کافی پڑھے لکھے تصور کئے جاتے ہیں، چیخ چیخ کر میڈیا سے بات کررہے تھے تو یقین جانئیے پہلے سے ہی اندازہ ہونے لگا تھا کہ ان کی چیخیں قوم کو چیخ و پکار پر مجبور کردیں گی اور پھر جب انھوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا تو کوئی حیرانی نہیں ہوئی بس عجب سی پریشانی نے انگڑائی لی کہ یہ ناکام چہرے جن کا مقصد وزارتوں کے بڑے بڑے دفتروں میں بیٹھنا اور بڑے پروٹوکول انجوائے کرنا ہے یہ سالہا سال سے ایسے ہی قوم کی کمائی کو لوٹ لوٹ کر ارب پتی بن گئے لیکن ان کے کریڈٹ پر دھیلے کی قومی فلاح نہیں ہے بلکہ وہی گھسے پٹے بہانے اور فضول قسم کی تاویلیں ہیں جس میں بین الاقوامی پٹرول کی قیمتوں کے رونے اور جنگ کے کوسنے شامل تھے۔

ان صاحب کو تو وزیر پٹرولیم کہنا بھی کسی وزارت کی توہین ہے کیونکہ جب سے آئے ہیں قوم کو خوشخبری سنانے کی باتیں کرتے ہیں اور پھر پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر گہرا غم دے جاتے ہیں۔ ان کی وزارت کو بدل دینا چاہئے کیونکہ یہ ترقی کرتے ہوئے نظام کے لوگ نہیں ہیں اور علی پرویز کو وزیر مہنگائی کہنا بہتر ہے کیونکہ ان کے ہر اعلان کے بعد غربت چھلانگیں مارنے لگتی ہے۔ اس کے بعد کرائے کے وزیر خزانہ سامنے آئے اور اپنے چار سال کی ناکامیوں کی داستان سنا کر آخر میں قوم پر پٹرول مہنگا کرنے کا بم دے مارا اور ہنستے مسکراتے بڑی بڑی گاڑیوں میں گھر چلے گئے۔

یہ حکمران اتنے نااہل ہیں کہ ان کے پاس مشکل وقت کے لئے کوئی پلاننگ ہے اور نہ ہی خوشحالی کا کوئی پروگرام ہے۔ یہ لوگ سالہاسال سے آئی ایم ایف سے پالیسیاں لے کر عوام پر ٹیکس اور مہنگائی کے بم پھوڑتے ہیں۔ عجیب داستان ہے کہ بغیر کسی ہوم ورک........

© Daily Urdu