menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Manju

39 0
05.04.2026

اسے ہر بات کی جلدی رہتی تھی گو کہ اس کے مزاج میں بلا کا تحمل تھا۔ ساری حیاتی وہ پہلے "تولو پھر بولو" کی پیروکار رہی۔ اب جب ہم اس کی زندگی کو ریوائنڈ کرکے دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا کہ اسے واقعی جلدی تھی۔

آنے کی بھی اور جانے کی بھی۔

چاٹگام کی سرسبز وادی میں واقع ایک چھوٹے سے مکان کے صحن چگتی مرغیاں اور ان مرغیوں کی بیٹ پر پڑے ترچھے قدم کے سبب پھسلتی امی۔ یوں پریگننسی کے ساتویں ہی مہینے اُس کا جنم ہوا۔

وہ ست ماسو تھی، نحیف و کمزور۔ اپنی پیدائش کے مقرر کردہ وقت سے دو ماہ پہلے آ جانے والی بے چین روح۔

میری منجھلی بہن "زرین کمال" جیسے ہم پیار سے منجو کہتے ہیں۔ امی بتاتی تھیں کہ جب وہ صحن میں گریں تو تکلیف کی شدت میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ اتفاق سے اس وقت صلاالدین چچا گھر پر موجود تھے وہ امی کی بگڑتی حالت دیکھ کر بھاگ کر ڈاکٹر صاحبہ (غالباً ڈاکٹر مہرالنسا) کو بلا لائے۔ نو مولود زرین نیلی پڑ چکی تھی مگر زندگی باقی تھی جو ڈاکڑ صاحبہ کی ان تھک کوششوں سے لوٹ آئی۔ ڈاکٹر نے اس کی پیٹھ پر کئی مرتبہ ہاتھ تھپتھپایا، مصنوعی تنفس دیا اور گرم پانی سے اس کی ٹکور کی، تب کہیں جا کر منجو بی لوٹیں۔ امی کا سارا لاڈ پیار زرین کے لیے مختص کہ وہ صحیح معنوں میں اس کی حقدار بھی تھی۔ وہ ہمیشہ امی کا دایاں ہاتھ رہی، امی کی مشیر و دم ساز۔

زرین ہم سے فقط سوا دو سال بڑی تھی۔ بچپن میں میری اور زرین کی بہت لڑائی رہتی تھی اور وجہ ہمیشہ بلی کی مالکانہ حقوق کا قضیہ۔ ڈھاکہ میں زرین اور آپا میں گاڑھی چھنتی تھی اور میرے بچپنے کے سبب دونوں ہمیں منہ لگانے کی روادار نہ تھیں مگر سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد جب وسط تہتر میں ہم لوگ کراچی آئے تو ہم بھی ٹین ایج میں داخل ہو چکے تھے سو میری اور زرین کی بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی بلکہ تب ہم تینوں بہنیں ہی باہم شیر و شکر تھے۔

زرین ڈھاکہ میں آٹھویں جماعت میں تھی اور سقوط کی وجہ سے اسے اپنے دو سال کے ضائع جانے کا شدید قلق تھا۔ اس کا حل اس نے یہ نکالا کہ کراچی میں اس نے ایک ہی ساتھ دس پیپرز کا امتحان دے کر ایک ہی ہلے میں میٹرک پاس کر لیا۔

اپوا کالج سے اس نے انٹر کیا، اسے وہ کالج سخت ناپسند تھا۔ شومئی قسمت کہ اپنے انٹر کے مضامین میں اس نے اردو ایڈوانس بھی رکھ لی جب کہ اردو اس کی سوا ستیاناس تھی۔ اسے ادب سے رتی بھر لگاؤ نہ تھا مگر اسپورٹس کی دلدادہ تھی۔ کرکٹ کی تو شیدا تھی اور ایک ایک بال اور شاٹ سمجھتی بھی۔ ظہیر عباس پر فدا، خاص کر ظہر عباس کا بینڈنا باندھ کر بلا گھماتے ہوئے میدان میں آتے ہوئے سورج کو دیکھنے کی ادا پر سو جان سے نثار۔ ووین رچرڈ اور للی بھی اس کے پسندیدہ کھلاڑی تھے۔ ہمیں کرکٹ کی سمجھ نہ تب تھی اور نہ ہی آج........

© Daily Urdu