Hans Raj Aur Kasbi
میری اس سے ملاقات بالکل ایک فلمی منظر تھا۔ وہ کریانہ کی دکان کے تھڑے سے اتر رہی تھی اور میں تیزی سے اوپر چڑھ رہا تھا۔ ہماری زور دار ٹکرنے جہاں اس کا خریدا گیا سامان بکھیر دیا وہیں میرا وجود بھی۔ تھڑے سے گرنے باعث اسے گھٹنے میں شدید چوٹ آئی تھی۔ میں نے انسانی ہمدردی کے ناطے اس کا ضائع شدہ سامان دوبارہ مول لے کر اسے اپنی نیلی کلٹس میں اس کے گھر اتارا دیا (مگر کیا یہ واقعی محض انسانی ہمدردی تھی؟) راستے بھر عقب نما آئینہ ایک حیرت کدہ بنا رہا اور ہماری آنکھیں الجھتی رہیں۔ اس کی مے گوں آنکھوں کو درد اور نمناکی نے سحر طراز کر رکھا تھا۔
میں کہ پیشے سے محاسب یا حساب دار پر طبیعت سے شاعر تھا۔ بچ نہ سکا اور تیرِ نظر سے گھائل ہوا۔ ظالم دل کو اس سے کیا غرض کہ کس عمر کے جسّہ میں دھڑکتا ہے، نا مراد صرف رگوں میں خون ہی نہیں پہنچاتا بلکہ پسلی سے پیدا کیے گئے گم شدہ کی شناخت پر بھی مکمل ادراک رکھتا ہے۔ اس سنِ پختگی میں میرا دل مچلا اور ایسا اتھرا ہوا کہ میں تیسرے دن اس کی چوکھٹ پر تھا۔ یہ میرا شعوری فیصلہ ہر گز نہ تھا مگر انجانی کشش مجھے کشاں کشاں اسے کے دروازے تک لے آئی تھی۔
پہلے پہل وہ کہنہ دروازہ نیم وا رہا۔ پھر مکمل کھل گیا اور اس کے ساتھ ہی میرے اندر بھی کئی در وا ہوتے چلے گئے۔ میں لہلہی دوپہر میں گاڑی مرکزی شارہ پر پارک کرتا اور اپنی پی کیپ کو مزید نیچے سرکا کر ماسک پہن لیتا۔ کووڈ کے دین ماسک بھی بہروپ دھارنے میں بہت معاون۔
اس کا دو کمروں پر مشتمل مختصر سے ساز و سامان سے مزین گھر بڑا ہی صاف ستھرا رہتا۔ اس کا گھر مختصر تھا مگر........
