menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Halloween

17 0
saturday

جب ہم تازہ تازہ کیلگری وارد ہوئے تو ظاہر ہے وہی کیفیت تھی جو ہر نووارد کی ہوتی ہے۔ جہاں محفوظ مقام پہ پہچنے کی خوشی تھی وہیں بچھڑی زمین کی یاد پل پل دامنِ گیر بھی رہتی۔ اس اجنبی مٹی کی بو باس، ذائقہ، ہوا، موسم فضا، رت اور دھوپ سب بالکل مختلف تھی اور حالات کی سختی اور ذمہ داریوں کا گراں بار گلے کا ہار۔ بہرحال جب دریا میں کود ہی گئے تو تیرنا تو تھا ہی بھلے بہاؤ کے مخالف سہی۔

ہمیں یاد ہے کہ ان دنوں ہم ڈاؤن ٹاؤن لائبریری کے عقب میں واقع بو ویلی کالج Bow Valley College میں چائیلڈ کئیر پروگرام میں ان رول تھے۔ وہ اکتوبر کی خنک اور جاتی پت جھڑ کی اداس صبح تھی اور ہم برینٹ وڈ اسٹیشن سے ڈاؤن ٹاؤن جانے کے لیے ٹرین پر سوار ہوئے اور کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ ٹرین پر خلاف معمول کثیر تعداد میں عجیب ڈراؤنی حلیہ کے لوگ موجود تھے۔ لگتا تھا کہ ایلین aliens نے زمین پر حملہ کر دیا ہے۔ ڈاؤن ٹاؤن کے اسٹیشن اور سڑکوں پر بھی یہی مخلوق روا دواں تھی۔ بلکہ ایک موڑ مڑتے ہی میرا سامنا اچانک ایک ایسے شخص سے ہوا جس کے سینے میں آدھی تلوار پیوست تھی اور وہ بری طرح سے لہولہان بھی۔ اسے دیکھ کر بے ساختہ میری چیخ نکل گئی تھی۔ خیر افتاں و خیزاں کالج پہنچے تو پتہ چلا کہ آج ہالوین کا تہوار ہے۔

ہالووین پاکستان میں بھی میرے لیے اجنبی نہیں تھا کہ جب سے کرسٹین اسکول کی وائس پرنسپل بنی تھیں، اسکول میں کرمس، ہالووین، سنیٹ پیڑ ڈے اور ویلنٹائن ڈے بہت اہتمام سے منایا جانے لگا تھا مگر شاید یہاں فکر معاش نے یاد رفتگاں کو دھندلا دیا تھا۔ مغربی ملکوں کے باقی شہروں کی طرح ہالووین کیلگری میں بھی بڑے جوش خروش سے منایا جاتا ہے۔ وسط اکتوبر ہی سے لوگوں کے گھروں کے باغیچوں میں مردوں کے ڈھانچے، قبریں، کھوپڑیاں، بھوت اور مکڑی کے جالے........

© Daily Urdu