Tareek Haqiqat
نوجوانی کے دن تھے اور ہمارے ایک دوست ایک مۂ لقا کی زلف پریشاں کے اسیر ہو گئے۔ ابا اماں نے اُن کی شادی کیلئے ویسے ہی شاید لڑکیوں کی لسٹیں بنا لی تھیں اور ویسے بھی پاکستان کے معاشرے میں شادی ایک اہم معاشرتی معاملہ ہے۔ اُن صاحب کو اس حسن آرا کے ہوشربا حُسن و جمال کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام موسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
کچھ بات چیت تو بھلے ہوئی لیکن درست راہ پر آگے نہیں بڑھ سکی۔ والدین بغیر کسی وجہ کے اس رشتے کا بھرپور مخالف تھے۔ بظاہر والدین کی انا کی جنگ تھی اور جب یہ احساس ہوا کہ اب کوئی رستہ دکھائی نہیں دیتا، زندگی سے بھرپور جواں سال کڑیل نوجوان نے خودکشی کی کوشش کی۔ جان تو بچ گئی لیکن خاندان کا ایک دوسرے پر یقین تباہ و برباد ہوگیا۔
محترمہ بانو قدسیہ نے اپنے معرکہ آرا ناول راجہ گدھ میں ایک بہت شاندار بات لکھی تھی کہ اگر کبھی کسی معاشرے میں ناکامی کا بیرومیٹر نصب کیا جائے تو خودکشی اس کا آخری درجہ حرارت ہوگا۔ ایک ماہر نفسیات کو اتنی تو اجازت ہونی چاہیئے کہ وہ ایسے معاملوں میں کچھ اپنی بھی رائے دے سکے۔ میری رائے میں اگر کسی خاندان میں رشتوں کی ناکامی کا آخری درجہ حرارت نصب........
