menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Narsain Hamari Mohsin

16 0
25.05.2026

جس صبح کو پاپا گئے تو وہ ایک بےحد مشکل دن تھا۔ وفات سے کچھ پہلے اُن کے نرس نے مجھے کہا کہ میں ان کے سانسوں کی ترتیب بدلتی دیکھ رہا ہوں اور اختتام ممکنہ طور پر بہت دور نہیں۔ آخری وقت سے کچھ پہلے امبر اور ہمارے والدین کی عمر کی ایک نیک دل بنگلہ دیش کی خاتون داخل ہوئیں اور جب پاپا نے آخری سانس لی تو ہم تینوں کمرے میں موجود تھے۔ منسی میں یہ پہلے مسلمان مرد کی وفات تھی کیونکہ ان سے پہلے جانے والی ایک 108 سالہ خاتون تھیں اور وہ ایک نرسنگ ہوم میں رہتی تھیں۔ ان کی قبر پاپا کے بالکل ساتھ ہے۔ اُن کے بچے اسلام سے برگشتہ ہو چُکے تھے اور بظاہر اسلامی کمیونٹی کا حصہ نہیں رہے تھے۔ پاپا کی وفات کا سنتے ہی اس دن کم و بیش سب ہی مسلمانوں نے اپنے کام چھوڑ دئیے، کلینک بند کر دئیے اور یونیورسٹی سے چھٹی لے لی۔ ہمارے اسپتال کے کمرے کے باہر آ کر کھڑے ہو گئے، اسپتال کی راہ داری آباد کر دی لیکن اس کا کیا کریں کہ دل کی وہ گلی جو باپ کے نام سے عبارت تھی اس پر ممنوع کی تختی آویزاں ہوگئی۔

پاپا کا کمرہ بال میموریل اسپتال کی پانچویں منزل پر تھا۔ اُن کی وفات کے چند ہی منٹوں بعد مجھے نچلی منزل پر جانا ہوا اور ایلیویٹر سے نکلتے ہی ہماری کیس مینیجر مجھے ملیں اور ایک مریض کا بتانے لگیں۔ میری خاموشی دیکھ کر شاید پریشان ہوئی ہوں لیکن میں اس وقت ایک عجیب کیفیت سے گزر رہا تھا۔ انہیں گئے ہوئے ابھی چند ہی لمحے ہوئے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک مہیب تنہائی ہے۔ یوں سمجھئیے جیسے طوفان سے کسی کمرے کی چھت اڑ گئی ہو اور آپ کڑکتی بارش اور طوفان بادوباراں میں بالکل تنہا کھڑے ہوں۔ پردیس کی تنہائی کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ اکلوتا بیٹا۔ پردیس کا اسپتال، چھوٹے بچے اور والد کی وفات۔ یہ........

© Daily Urdu