Hath Kangan Ko Aarsi Kya
ہاتھ کنگن کو آرسی کیا
1985/1984کا ذکر ہے جب ہمارے پروفیسر صاحب کلاس میں پڑھانے آئے اور باتوں باتوں میں ایک روشن سبق دے گئے۔ کہنے لگے کہ اگر میں کسی وجہ سے بس کی ٹکٹ نہ لے سکوں تو واپسی پر دو ٹکٹیں لے لیتا ہوں اور ایک ٹکٹ ضائع کر دیتا ہوں۔ دیانتداری کا اولین سبق تو گھر سے سیکھا لیکن والدین کے سکھلائے ہوئے اخلاق پر ایک استاد کے عمل نے تصدیق کی مہر لگا ڈالی۔
ڈاکٹر روکافورٹ ہمارے ریزیڈنسی کے ڈائرکٹر تھے اور مقابلتاََ خاموش طبع اور سنجیدہ انسان تھے۔ ایک دن میرے ساتھ ہی کھڑے تھے اور کہیں کوئی کاغذ دستخط کرنے لگے۔ ایک دواساز کمپنی کے طبی نمائندے ساتھ کھڑے تھے اور انہوں نے ایک پین ہاتھ میں تھمانے کی کوشش کی۔ بہت نرمی کے ساتھ رد کر دیا اور کہنے لگے کہ دیکھئیے میرے پاس میرا پین موجود ہے۔ جس چیز کو سالوں تک میں غیر اخلاقی سوچتا رہا، اس دن میرے ایک استاد نے اپنے سنہرے کردار سے میری سوچ پر ایک روپہلی مہر لگا دی۔ کئی دہائیاں گزر گئیں اور میں نے آج تک نہ کسی دواؤں کی کمپنی سے کوئی تحفہ نہیں لیا اور نہ کبھی اُن کا کھانا کھایا۔ اگر کوئی تحفہ ڈاک میں آیا بھی تو کہیں جمع کروا دیا۔ ڈاکٹر روکافورٹ کے چند لمحوں کے فیصلے نے اخلاقیات کا ایک سنہرا سبق دے ڈالا۔
آپ شاید جانتے ہوں کہ میری امریکہ کا ویزہ لینے کی پہلی کوشش ناکام ہوئی اور بالکل صاف صاف انکار ہوگیا تھا۔ اس وقت تو کچھ ایسا ہی لگتا تھا کہ آگے مستقبل میں ہی کچھ نہیں رہا۔ بہت سے نوجوان ان وقتوں میں کچھ ایسے فیصلے کرتے تھے جن کو کم از کم اخلاقی طور پر غیر مناسب ہی کہا جا سکتا ہے۔ لاہور واپس آتے ہوئے میں بہت دل برداشتہ تھا اور آگے کم از........
