menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Durustgi Ka Waqt

17 0
15.07.2026

شیننڈووا آئیوا میں اپریل یا مئی کی ایک بے حد خوشگوار چمکتی ہوئی صبح کو میں نے یہ سوچا کہ زندگی کے مسائل ختم ہو گئے ہیں۔ اتنے خوبصورت اور سنہری دھوپ والے دن بہت کم ہوتے ہیں لیکن آج بھی میں گویا وہ دن دیکھ سکتا ہوں۔

چند دنوں بعد مجھے اپنے جسم میں بہت عجیب سا درد محسوس ہونے لگا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا مجھے میرے جوڑوں میں درد شروع ہوگیا ہے۔ انہی دنوں میں میں نے تیزابیت کی ایک دوا بھی شروع کی تھی۔ بحثیت ڈاکٹر مجھے کئی بیماریوں کا خیال آیا جن میں سرفہرست Rheumatoid Arthritis جو جوڑوں کی ایک معروف، پیچیدہ اور معذوری کی حد تک بڑھ جانے والی بیماری ہے۔ اگر میڈیسن کی ٹیکسٹ بُک پڑھیں تو کم و بیش کتابی تعارف بالکل ہی ایسا تھا کہ کوئی شبہ نہیں رہا۔

چند ھفتوں بعد کسی کھانے پر مدعو تھے اور وہاں ایک قریبی دوست جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے اُن سے ذکر کیا جنہوں نے اس بات کی تائید کی کہ یہ بیماری بالکل ایسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ اُنہوں نے فوراََ لائف یا ڈاکٹروں کی ایک انشورنس پالیسی لینے کا کہا جس میں ڈاکٹر کی بیماری کی صورت میں آپ کو آپ کی تنخواہ کا تین چوتھائی حصہ باقی زندگی تک ملتا رہتا ہے۔ مذھبی بنیادوں پر وہ تو میں نہیں لینا چاہتا تھا لیکن بہرحال پریشانی سوا ہوگئی۔ اس زمانے میں امریکہ میں ڈاکٹروں کو اپنے ٹیسٹ لکھ کر خود دیکھنے کی اجازت تھی جو اب نہیں رہی۔ میں نے فوراََ سارے ٹیسٹ لکھے اور لیبارٹری میں دے کر آیا۔ حیران کُن طور پر سارے ٹسٹ درست تھے۔

شیننڈووا میڈیکل سینٹر میری زندگی کے سفر میں ان چند جگہوں میں سے ایک تھا جہاں مجھے بہت محبت سے رکھا گیا۔ امریکہ کے دیہات پاکستان کے دیہاتوں........

© Daily Urdu