Wooli Aur Islamabad Ke Katte Darakht
وُولی، اور اسلام آباد کے کٹتے درخت
زمین پر کہیں سانس لیتی شے کا وجود نہیں۔ ہُو کا عالم ہے۔ حدِ نگاہ تک کوڑے کے پہاڑ ہیں، بوسیدہ عمارتیں، زنگ شدہ گاڑیاں اور ایک تنہا روبوٹ جو صدیوں سے انسانوں کا چھوڑا ہوا کچرا سمیٹ رہا ہے۔ اسی کچرے کے ڈھیر میں اس روبوٹ کو ایک ننھا سا سانس لیتا ہوا ہرا پودا ملتا ہے، جسے وہ کسی خزانے کی طرح سنبھال کر رکھ لیتا ہے۔ یہ منظر کسی سائنسی فکشن ناول کا نہیں، بلکہ 2008 میں پکسر اینیمیٹڈ اسٹوڈیو کی بنائی گئی سب سے جراتمندانہ فلم وولی (WALL-E) کا ہے۔ ایک ایسی فلم جو بظاہر بچوں کے لیے ہے مگر اصل میں انسانیت کے نام ایک کڑی تنبیہ ہے۔
پکسر اینیمیٹڈ اسٹوڈیو وہ ادارہ جو کبھی بچوں کو بہانہ بنا کر بڑوں سے وجودی سوال کرتا تھا۔
وولی محض ایک اینیمیٹڈ فلم نہیں، یہ سرمایہ دارانہ نظام، صارفیت (Consumerism)، ماحولیاتی تباہی اور انسانی بے حسی پر ایک گہرا طنز ہے۔ اینڈریو اسٹین ٹن، جو پکسر کے سب سے بڑے مفکرین میں شمار ہوتے ہیں، نے تقریباً بغیر مکالموں کے ایسی فلم تخلیق کی جس میں خاموشی خود ایک زبان بن جاتی ہے۔ یہاں لفظ کم اور معنی زیادہ ہیں۔ کوڑے کے پہاڑ صرف پس منظر نہیں، بلکہ تہذیب کے ملبے کی علامت ہیں۔ یہ فلم اچانک اسلام آباد میں ہزاروں درختوں کی کٹائی کے تناظر میں یاد آتی ہے۔ ایک ایسا شہر جو کبھی "گرین کیپیٹل"........
