Ye Ramzan Kyun Hai?
نبی کریمﷺ صحابہ کرام کی محفل میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آپﷺ نے ایک ایسی خوشخبری سنائی جس نے سب کے دلوں میں تجسس پیدا کر دیا۔ آپﷺ نے فرمایا: "ابھی تمہارے سامنے ایک شخص آئے گا جو جنتی ہے"۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک انصاری صحابی داخل ہوئے جن کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا۔ دوسرے اور تیسرے دن بھی بعینہٖ یہی منظر دہرایا گیا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے یہ جاننے کے لیے کہ اس شخص کا وہ کون سا عمل ہے جس پر آقاﷺ نے اسے زندگی میں ہی جنت کی سند دے دی، ان کے ہاں تین دن قیام کیا۔ مگر انہوں نے دیکھا کہ وہ صحابی کوئی بہت زیادہ نفل یا غیر معمولی وظائف نہیں کرتے تھے۔ جب حضرت عبداللہ نے ان سے ان کے اس خاص عمل کے بارے میں پوچھا، تو انصاری صحابی نے ایک ایسا جملہ کہا جو رہتی دنیا تک کے لیے اخلاصِ نیت کا پیمانہ بن گیا:
"میرا عمل بس وہی ہے جو تم نے دیکھا، البتہ (ایک بات ہے کہ) میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے لیے کینہ (بغض) نہیں رکھتا اور اللہ نے کسی کو جو نعمت دی ہے، میں اس پر حسد نہیں کرتا"۔ (مسند احمد، سنن نسائی)
یہی وہ "صفائے قلب" اور "انا کی نفی" ہے جو........
