Pakistan Mein Khandani Nizam Ka Zawal
پاکستان میں خاندانی نظام کا زوال
پاکستان میں خاندانی نظام جس زوال اور توڑ پھوڑ کا شکار ہے، وہ کسی بھی ذی شعور انسان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہم ایک ایسے موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ہمارے گھر سکون کی جائے پناہ بننے کے بجائے نفسیاتی اور اخلاقی انتشار کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ سال 2026 کے حالیہ عدالتی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً وفاقی دارالحکومت میں خاندانی تنازعات اور علیحدگی کی شرح خوفناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی فیملی کورٹس میں روزانہ 300 سے زائد طلاق اور خلع کے کیسز درج ہو رہے ہیں، جو اوسطاً 38 کیسز فی گھنٹہ بنتے ہیں۔ 65 فیصد سے زائد طلاقیں شادی کے ابتدائی ایک سے پانچ سالوں کے اندر ہو رہی ہیں، جبکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہی 45 ہزار سے زائد نئے مقدمات کا دائر ہونا خاندانی نظام کے بکھراؤ کی سنگین نشاندہی ہے۔
لاہور: پنجاب کی فیملی کورٹس اور یونین کونسلز میں طلاق اور خلع کے درج کیسز میں گزشتہ ایک دہائی میں 25 فیصد سے 35 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ لاہور کی عدالتوں میں خصوصاً خلع کے مقدمات کا انبار لگا ہوا ہے اور کورٹ میرج کرنے والے جوڑوں میں چند مہینوں کے اندر ہی علیحدگی کا رجحان سب سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔
کراچی: سندھ کے صوبائی دارالحکومت اور ضلعی عدالتوں میں سالانہ بنیادوں پر ہزاروں خلع اور طلاق کے نوٹسز جمع ہوتے ہیں۔ روزمرہ کی شديد مہنگائی، مالی ناآسودگی اور عدم........
