menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Buddu Ka Oont Aur Iran

27 0
02.03.2026

بدو کا اونٹ اور ایران

عرب کی ایک قدیم تمثیل بین الاقوامی سیاست کے (Strategic) رخ کو سمجھنے کے لیے بہترین مشعلِ راہ ہے۔ ایک سرد صحرائی رات میں جب ایک بدو اپنے خیمے میں آرام کر رہا تھا، اس کے اونٹ نے باہر ٹھٹھرتے ہوئے التجا کی کہ اسے صرف اپنی ناک خیمے کے اندر کرنے کی اجازت دی جائے۔ بدو نے ہمدردی میں اجازت دے دی۔ کچھ دیر بعد اونٹ نے سر، پھر گردن اور آہستہ آہستہ اپنے کندھے خیمے کے اندر کر لیے۔ جب پورا اونٹ خیمے میں داخل ہوگیا تو جگہ کی تنگی کے باعث اس نے بدو کو لات مار کر باہر نکال دیا اور خود خیمے کا مالک بن گیا۔ عالمی استعمار کا کردار بالکل اسی اونٹ جیسا رہا ہے، جو پہلے تجارت، پھر تحفظ اور آخر میں "انقلاب و حقوق" کے نام پر خیموں میں داخل ہوتا ہے اور اصل مالکان کو بے دخل کر دیتا ہے۔

​تاریخی حقائق کا تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی علاقائی طاقت عالمی نظام کے لیے چیلنج بننے لگتی ہے، تو اسے مفلوج کرنے کے لیے ایک ہی جیسا اسکرپٹ دہرایا جاتا ہے۔ 1970 کی دہائی میں جب شاہِ ایران نے تیل کی قیمتوں پر کنٹرول حاصل کیا اور ایران کو ایک بڑی عسکری قوت بنانے کا خواب دیکھا، تو وہ مغرب کے لیے ناقابلِ قبول ہوگیا۔ اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے "انسانی حقوق" کو بطور ہتھیار........

© Daily Urdu