menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nani Basti: Aik Tanqeedi Jaiza

42 0
15.08.2026

نانی بستی: ایک تنقیدی جائزہ

نانی بستی کے مصنف کا اصل نام سید ولی اشرف اور قلمی نام اشرف صبوحی ہے۔ وہ ڈپٹی نذیر احمد کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ محکمہ ڈاک آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک رہے۔ ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد تاحیات ہمدرد دوا خانے میں مصروف عمل رہے اور 1990 کو اس دار فانی سے ہمیشہ کے لیے کوچ کر گئے۔

اشرف صبوحی کا شمار اردو ادب کے بلند پایہ کہانی نویسوں میں ہوتا ہے۔ اردو کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی قدرت رکھتے تھے۔ چند انگریزی کتابوں کا اردو ترجمہ کیا، جو بہت مقبول ہوئیں۔ "دلی کی چند عجیب ہستیاں"، "جھروکے"، "غبار کارواں"، وغیرہ تصانیف بہ طور یاد گار چھوڑ دیں۔

نانی بستی اشرف صبوحی کا ایک شاہ کار افسانہ ہے۔ نانی بستی، شتابہ، بیٹا، بیٹی اور بہو کہانی کے پرائمری، جب کہ خان صاحب اور رئیس ثانوی کردار ہیں۔ کہانی میں نانی بستی روایت پسند، جدید دنیا سے بے خبر اور مزاجاً وہمی خاتون ہے۔

نانی بستی کو ایک دفعہ ریل "دھوئیں کی گاڑی" کے سفر اور تین مقامات پر پچھل پائی "دیو" کا سامنا ہوتا ہے۔ جب وہ تاریک غسل خانے میں نہاتی ہے، تو پتیلے میں انھیں اپنی صورت نظر آتی ہے۔ وہ اپنے عکس کو پچھل پائی سمجھ کر ڈر جاتی ہے۔ بیٹی اور بہو انھیں سمجھاتی ہے کہ پتیلے میں تم نے خود اپنی شکل دیکھی ہے، پر وہ کہتی ہے: "تھو تھو پچھل پائی ہے"۔

نانی بستی روزانہ نئے نئے شگوفے چھوڑتی تھی۔ اس طرح کنبہ والے اور رشتہ دار سب اس کی کمزوری سے واقف ہو جاتے ہیں۔ ایک دن ظہر کے وقت گاٶں کی ایک شریر لڑکی "شتابہ" ہندو جوگی کے لباس میں ملبوس ہوکر نانی بستی کے........

© Daily Urdu