Wo Jo Bechte Thay Dawa e Dil Wo Dukan Apni Barha Gaye
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
روایت ہے کہ بادشاہ کے سر پر سینگ نکل آئے تھے۔ بادشاہ نے یہ راز دنیا سے چھپانے کی پوری کوشش کی۔ حجام کو بلایا۔ بال کٹوائے اور سختی سے کہا کہ کسی کو خبر نہ ہو کہ بادشاہ کے سر پر سینگ ہیں۔ حجام نے وعدہ تو کر لیا۔ مگر بعض راز ایسے ہوتے ہیں جو زبان پر آنے سے پہلے پیٹ میں مروڑ پیدا کر دیتے ہیں۔ حجام بھی اسی مرض کا شکار تھا۔ بادشاہ کے خوف سے کسی سے کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔ سو جنگل کا رخ کیا۔ ایک درخت کے قریب پہنچا اور دل کا بوجھ اتارتے ہوئے بولا۔ بادشاہ کے سر پر سینگ ہیں۔ بادشاہ کے سر پر سینگ ہیں۔
حجام واپس آ گیا۔ لیکن راز ختم نہیں ہوا۔ درخت بڑا ہوا تو شاید اس کے پتوں میں بھی بادشاہ کے سینگوں کی سرسراہٹ سنائی دینے لگی۔ ہماری سوسائٹی میں ایسے حجام آج بھی بہت ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب جنگل جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ موبائل فون، واٹس ایپ اور محفلیں موجود ہیں۔ کسی کے گھر کی کوئی بات معلوم ہوئی نہیں۔ بس کاتا اور لے دوڑی۔ کسی کی شادی میں مسئلہ ہوا تو خبر بن گئی۔ کسی کے بچے نے اسکول بدلا تو سوال شروع۔ کسی کی بیٹی کی منگنی ہوئی تو پوری تفتیش۔........
