Shama Har Rang Mein Jalti Hai Sehar Hone Tak
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
"خواتین کے بارے میں کوئی فیصلہ، خواتین کے بغیر نہیں"۔ یہ محض ایک جملہ نہیں۔ یہ ایک فکری اعلان اور مزاحمتی صدا ہے اور یہی صدا پاکستان میڈیکل ویمن ایسوسی ایشن کے منشور کی روح ہے۔ جس کی بانی اور روح رواں ڈاکٹر وجیہہ ہیں۔ جو انتہائی ذہین، قابل اور متحرک شخصیت ہیں اور ہمیشہ اعداد و شمار، زمینی حقائق اور دلیل کی بات کرتی ہیں۔
سفید کوٹ کو اگر صرف ایک یونیفارم سمجھا جائے تو یہ زیادتی ہوگی۔ یہ دراصل ایک عہد ہے۔ ایک مسلسل بیداری ہے، ایک ایسی ذمہ داری ہے جو کندھوں پر نہیں، ضمیر پر رکھی جاتی ہے۔ اس کی سفیدی قائم رکھنے کے لیے کتنے ہی خواب اپنے رنگ قربان کرتے ہیں۔ ایک بچی جب پہلی بار ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی ہے تو اسے اندازہ تک نہیں ہوتا کہ اس خواب کی تعبیر میں اس کا بچپن، اس کی جوانی، اس کی نیندیں، اس کی عیدیں، اس کی خواہشیں سب شاملِ نصاب ہو جائیں گی۔ وہ کھیل کے میدان سے کتابوں کی میز تک آتی ہے۔ تقریبات سے لائبریری تک سمٹتی ہے اور یوں اپنے وجود کو ایک مقصد کے تابع کر دیتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ اس قربانی کو اسی سنجیدگی سے قبول کرتا ہے۔
ہمارے ہاں اکثر بچیوں کو ڈاکٹر بنانے کا فیصلہ ان کی پیشہ ورانہ شناخت کے لیے نہیں بلکہ سماجی وقار کے لیے کیا جاتا ہے۔ گویا سفید کوٹ قابلیت سے زیادہ رشتوں کی منڈی میں قدر بڑھانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف پیشے کی توہین ہے بلکہ ان بچیوں کے خوابوں سے بھی........
