menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Relative Grading, Taleemi Nizam Se Muashi Aur Insani Istehsal Tak

14 0
thursday

ریلیٹو گریڈنگ، تعلیمی نظام سے معاشی اور انسانی استحصال تک

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن جب تعلیمی نظام انصاف کے بجائے مصنوعی توازن قائم کرنے لگے تو اس کے اثرات صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتے۔ بلکہ پورے معاشرے، معیشت اور انسانی زندگیوں تک پھیل جاتے ہیں۔ جدید یونیورسٹیوں میں رائج "ریلیٹو گریڈنگ" یا نسبتی درجہ بندی کا نظام اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ بظاہر یہ نظام معیار برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، مگر حقیقت میں اس نے محنت، قابلیت اور انفرادی جدوجہد کی اہمیت کو کمزور کر دیا ہے۔ یہی سوچ بعد میں معاشی اور سماجی ڈھانچوں میں بھی نظر آتی ہے۔ جہاں انصاف کا پیمانہ ہر طبقے کے لیے ایک جیسا نہیں رہتا۔

ریلیٹو گریڈنگ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ طلبہ کو ان کی اپنی کارکردگی کے مطابق نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مقابلے میں نمبر دیے جائیں اگر پوری کلاس بہترین کارکردگی دکھائے، تب بھی سب کو اعلیٰ گریڈ نہیں دیے جاتے، کیونکہ ایک "اوسط" برقرار رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کئی محنتی طلبہ اپنی اصل صلاحیت کے باوجود کم گریڈ حاصل کرتے ہیں۔ یوں ان کی محنت کو اس لیے محدود کر دیا جاتا ہے۔ تاکہ نظام کا بنایا ہوا توازن برقرار رہے۔ گویا مسئلہ کمزور کارکردگی نہیں۔ بلکہ کسی کا حد سے زیادہ قابل ہو جانا ہے۔

اس نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ طلبہ کے درمیان صحت مند مقابلے کے بجائے حسد، ذہنی دباؤ........

© Daily Urdu