Pait Phat Jata Hai, Nizam Nahi Badalta
پیٹ پھٹ جاتا ہے، نظام نہیں بدلتا
بچپن میں بزرگ جو چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ ان میں زندگی کے بڑے بڑے فلسفے چھپا دیا کرتے تھے۔ ایک کردار ایسا بھی تھا۔ جو کھاتا ہی چلا جاتا تھا۔ بمثل
شیر ساریاں نوں کھاوے پر شیر نوں کوئی ناں کھاوے
ہمیں اس وقت ان کہانیوں کی تہہ میں چھپی حکمت تو سمجھ نہیں آتی تھی۔ البتہ ان کے کردار، ان کی حرکتیں اور ان کا انجام ہمارے ذہنوں میں نقش ہو جایا کرتے تھے۔ ایک نظم کچھ یوں تھی۔
دو اپنیاں وی کھادیاں دو بٹیر دیاں وی کھادیاں
بچپن میں اس نظم کو سن کر ہنسی آتی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس زمانے میں پیٹ پھٹنے پر کہانی ختم ہو جاتی تھی۔ جدید دور میں پیٹ پھٹ جانے کے بعد بھی کہانی ختم نہیں ہوتی۔ ہم بھی تو ایک ایسی ہی کہانی کے کردار ہیں۔ ہم پر ٹیکس در ٹیکس عائد ہوتے ہیں۔ بجلی کا بل آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے گھر کے دروازے پر خوشیوں کا جنازہ رکھ دیا ہو۔ گیس، پٹرول اور روزمرہ زندگی کی بے شمار ضروریات کے اخراجات بڑھتے جاتے ہیں۔ آدمی اپنی آمدن گنتا ہے اور اخراجات اس سے پہلے ہی اسے گن کر مسترد کر چکے ہوتے ہیں۔
تنخواہ دار طبقہ مہینے کی پہلی تاریخ کو جینے کا منصوبہ بناتا ہے اور دس تاریخ تک حساب کتاب کی میز پر اپنی خواہشات کا........
