Khawaje Da Gawah Daddu, Andhi Himayat Ka Almiya
خواجے دا گواہ ڈڈّو۔اندھی حمایت کا المیہ
پنجابی زبان کی معروف کہاوت "خواجے دا گواہ ڈڈّو" محض ایک روزمرہ کا فقرہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی رویّوں اور اخلاقی زوال کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ "ڈڈّو" سے مراد برساتی مینڈک ہے۔ جو بارش کی پہلی بوند گرتے ہی ہر طرف سے نکل آتے ہیں اور بے سبب شور مچانے لگتے ہیں۔ بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو کسی بااثر شخصیت پر الزام لگتے ہی، بغیر تحقیق، بغیر دلیل اور بغیر ثبوت، اس کے دفاع میں کود پڑتے ہیں۔ ان کی وفاداری حق کے ساتھ نہیں بلکہ شخصیت اور مفادات کے ساتھ ہوتی ہے، اسی حقیقت کو بزرگوں نے ایک مختصر مگر معنی خیز کہاوت میں سمو دیا: "خواجے دا گواہ ڈڈّو"۔
یعنی جس شخص کی اپنی حیثیت معتبر نہ ہو یا جو خود حقیقت سے بے خبر ہو۔ وہ دوسروں کی دیانت اور پاک دامنی کی گواہی کیسے دے سکتا ہے۔ ان برساتی ڈڈوؤں کی ایک عجیب فطرت ہوتی ہے۔ نہ ان کا کوئی مستقل موسم ہوتا ہے۔ نہ کوئی مستقل اصول اور نہ کوئی مستقل مؤقف۔ جہاں شور اٹھا۔ وہیں ٹرّانے پہنچ گئے۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے "ڈڈو" کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ انہیں "چمچے" کہتے ہیں، حالانکہ یہ تشبیہ بھی چمچوں کے ساتھ زیادتی ہے۔........
