Inbox, Naay Sandooq, Aik Naya Rawaiya
ان باکس، نیا صندوق، ایک نیا رویہ
ان باکس محض ایک لفظ نہیں رہا۔ یہ عہدِ حاضر کا ایک استعارہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا صندوق، جس میں باتیں رکھی بھی جاتی ہیں اور اکثر چھپائی بھی جاتی ہیں۔ صندوق ہمیشہ سے امانت، اعتماد اور پردہ پوشی کی علامت رہا ہے۔ یادوں کا صندوق تو ایسا ہوتا ہے، جسے نہ دھوپ درکار ہوتی ہے نہ ہوا۔ وہ وقت کی نمی میں بھی اپنی مہک برقرار رکھتا ہے، کبھی ہر گھر میں ایک مضبوط سا صندوق ہوا کرتا تھا۔ لکڑی یا لوہے کا۔ جس کے اندر ایک خاموش دنیا آباد ہوتی تھی، اس میں کپڑے بھی ہوتے، زیور بھی اور کچھ ان کہی باتیں بھی۔
موسم بدلتا تو اسے کھولا جاتا۔ دھوپ دکھائی جاتی، تاکہ نمی اور زنگ اس کے وقار کو متاثر نہ کر سکیں، مگر اب جو صندوق "ان باکس" کے نام پر ہمارے ہاتھوں میں ہے، اس کی فطرت یکسر مختلف ہے، یہ بیک وقت کھلا بھی ہے اور بند بھی۔ یہ چھپاتا بھی ہے اور کبھی ظاہر بھی کر دیتا ہے۔ آج کل اشتہارات کی بہتات ہے۔ ہر سمت خرید و فروخت کا شور ہے۔ جائیداد، خدمات، اشیا۔ سب کچھ دستیاب ہے، مگر شفافیت ناپید۔ ہر اعلان کے آخر میں ایک جملہ ابھرتا ہے۔ جیسے کوئی خفیہ دروازہ ہو۔ "ان باکس میں........
