menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wali Ullah (4)

12 3
17.01.2026

عصر کے دھیمے سورج کی روشنی میں رنگ برنگے شامیانوں سے سجی حویلی کے بیرونی حصے میں ضرغام ساؤنڈ سسٹم ترتیب دے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔

اندر ٹھنڈے ہال میں خاندان کے اراکین جمع تھے۔ قاسم شیر اپنے بڑے صوفے پر تکیے لگائے بیٹھے، پریشانی سے اپنی داڑھی سنوار رہے تھے۔ بڑے بیٹے طاہر سے بولے، "میں ضرغام کی وجہ سے کافی پریشان ہوں۔ اس کا اٹھنا بیٹھا اب نئے عقائد رکھنے والوں کے ساتھ ہوگیا ہے اور وہ گھر میں بھی ہر چیز پر اعتراض کرتا ہے۔ میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس نوجوانی کے جوش کو کیسے سنواریں، کہیں یہ بات بغاوت پر نہ اتر آئے۔

بڑی بہن مریم، جو شائستہ مگر تیکھی گفتگو کی حامل تھی، بول اٹھیں کہ ضرغام تو پہلے کبھی دوسرے فرقوں کے قریب نہیں گیا تھا، لیکن اب اس کے نظریات کیسے بدل گئے۔ ضرغام کے بھائی حسان نے دانتوں میں خلال کرتے ہوئے کہا کہ اگر پیر صاحب کو پتہ چلا تو وہ ناراض ہوں گے اور خاندان کی شبیہ خراب ہو جائے گی۔ طاہر نے عملی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ علم کی کمی کا معاملہ ہے اور پیر صاحب اس کے سوالوں کا جواب دے سکتے ہیں۔ اگر ان سے بات کی جائے مگر قاسم شیر بولے نہیں پہلے ہمیں خود ہی پیار سے سمجھانے کی کوشش کرنی ہے۔ ورنہ میں حضرت صاحب کے خلیفہ سے رہنمائی لوں گا۔

سارا وقت خاموش بیٹھی زہرہ کے ذہن میں ضرغام کی باتوں کے بارے میں سوالات گونج رہے تھے۔ اس کے دل میں بھی کشمکش تھی۔ اسی دوران اطلاع آئی کہ محلے کے امام صاحب باہر آئے ہیں اور قاسم شیر ان سے ملنے چلے گئے۔

ان کے جانے کے بعد مریم نے والدہ سے پوچھا کہ کیا واقعی ضرغام وہابی ہوگیا ہے اور سختی کرنے لگا ہے۔ والدہ نے بتایا کہ نہیں سختی تو نہیں لیکن بزرگوں کے طریقوں کو غلط کہہ کر سب کو ٹوک دیتا ہے، جس سے ان کا دل دھڑک اٹھتا ہے۔ مہک نے زہرہ سے پوچھا کہ کیا ضرغام اسے تنگ کرتا ہے۔ زہرہ نے گھبراہٹ سے کہا کہ وہ تنگ نہیں کرتا، نرمی سے سمجھاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ صرف اللہ سے ڈرنا اور مانگنا چاہیے۔ حسان نے طنز کیا کہ یہی تو پروپیگنڈہ ہوتا ہے۔

طاہر نے سب کو ٹوکا کہ آج کا دن بڑا دن ہے اور سب کی نظریں ان پر ہیں۔ اس کے بعد سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ مریم اور مہک زہرہ کو ساتھ لے کر سجاواٹ دیکھنے چلی گئیں، جبکہ طاہر اور حسان باہر مہمانوں کے استقبال کے لیے نکل گئے۔

میں ہال میں قالین لگوا رہا تھا کہ طاہر نے میرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ سب ٹھیک ہے نا۔ میں نے مسکرانے کی کوشش کی۔ حسان نے کنی کاٹتے ہوئے کہا کہ آج کسی سے دلیل کی بات نہ چھیڑنا۔ میں نے کوئی جواب نہ دیا۔

باہر سے جلوس کی آوازیں قریب آتی گئیں۔ "یا رسول اللہ" کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی۔ یہ جلوس گلیوں سے ہوتا ہوا بالآخر ہماری حویلی کے سامنے اختتام پذیر ہوا۔ محفل کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ نعتیں پڑھی گئیں۔ ایک عالم دین نے اولیاء کرام کے مقام و مرتبے پر پرجوش خطاب کیا اور ان گروہوں پر سخت تنقید کی جو میلاد کے منکر تھے۔ آخر میں بڑے حضرت صاحب، جو تمام خاندان کے مرشد تھے، تشریف لائے۔ ان کی آمد پر ایک روحانی خاموشی چھا گئی۔ سب لوگ باادب کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے نرم و شیریں زبان میں روحانیت، اخلاق اور نماز کی پابندی کی تلقین فرمائی۔ دعا کے بعد محفل ختم ہوئی، لنگر تقسیم ہوا اور مہمان رخصت ہو گئے۔

انتظامات نمٹا کر جب میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا........

© Daily Urdu