Ye Azadi e Raye Nahi
اکثر سننا پڑتا ہے ہم صحافی حکومتوں اور سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہیں تو وہ جائز اور آزادی رائے ہے لیکن صحافیوں پر بات کی جائے تو وہ غلط یا ناجائز کیسے؟
بالکل جینئوئن سوال ہے۔ کسی کو بھی آپ کی رائے یا تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ہونا بھی نہیں چاہئے۔ تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟
مسئلہ اس میں ہے کہ ہم میں سے اکثریت کو آزادی رائے، تنقید، گالی گلوچ اور الزام تراشی میں فرق معلوم نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں جب تک دوسرے کو گالیاں نہ دی جائیں تو انہیں لگتا ہے بات کا مزہ نہیں آیا۔
اس معاشرے میں گھر، محلے، سکول، کالج تک اگر کسی کی بات اچھی نہ لگے تو گالی دی جاتی ہے۔ یہ مزاج اتنا پکا ہوچکا ہے کہ اب اسے ہی رائے سمجھا جاتا ہے۔
مزے کی بات ہے جو یہ کام کررہا ہوتا ہے وہ حیران ہوتا ہے کہ میں نے ایسا کیا غلط کہا ہے کیونکہ وہ بچپن سے گالیاں ہی کھاتا آیا ہے اور اب اسے لگتا ہے اس نے بھی اس "گالی گلوچ انداز" میں رائے دینی ہے جیسے دوسرے اس کے بارے دیتے آئے ہیں۔
جہاں تک سیاستدانوں کی برداشت کی بات ہے وہ آپ سے ووٹ لینے آتے ہیں۔ وہ آپ کے ٹیکس پر ایم ایم ایز یا ایم پی ایز بن کر تنخواہیں، ترقیاتی فنڈز، گاڑیاں، مفت ٹریول ووچرز، مفت میڈیکل علاج، فیملی سمیت سرکاری پاسپورٹس جس سے دنیا کے ساٹھ ملکوں میں انٹری کے لیے ویزہ درکار نہیں ہے، لیتے ہیں۔ طاقت، تھانے کہچری ہٹو بچو الگ۔ کروڑں کا فنڈ الگ۔ لہذا ان کے لیے ضروری ہے آپ کی گالیاں ہنس کر برداشت کریں کیونکہ اس میں انہیں سماجی مالی فوائد ہیں۔ وہ آپ کو جواب دہ ہیں کیونکہ آپ کے ووٹوں سے ہی وہ بنے ہیں۔ انہیں آپ سے ہر پانچ سال بعد کام پڑنا ہے۔ وہ گالیاں کھا کر بھی اگلے سال ہاتھ باندھ کرووٹ مانگنے آئیں گے لہذا وہ آپ کی گالیاں یا الزام تراشیاں نظر انداز کرتے ہیں اور بڑے مقصد پر آنکھ رکھتے ہیں کہ........
