Siasi Adam Istehkam Khatam Karna Hoga
ملک کے موجودہ حالات سنجیدہ اور ٹھوس بنیادوں پر تجزیہ کے متقاضی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، کمال محنت سے حل طلب بھی ہیں۔ حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو مشکلات کا پانی عوام کے سر کے اوپر تک جا پہنچا ہے۔ یعنی لوگوں کا عمومی طبقہ ہر طریقہ سے دیوار سے لگ چکا ہے یا لگا دیا گیا ہے۔ قیامت یہ ہے کہ ان مصائب کو پیدا کرنے میں ان کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ انھیں اس قابل ہی چھوڑا گیا ہے کہ بذات خود حل تلاش کر لیں۔ یہاں تک جو گزارشات پیش کر رہا ہوں یہ بالکل عام سی باتیں ہیں۔ مگر میری نظر میں یہ تمام کے تمام جملے اس بگاڑ کی عکاسی کر رہے ہیں جو مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
مشکل یہ ہے کہ اصل مسائل کو حل کرنے کی بجائے، جھوٹ کی لیپا پوتی کی جا رہی ہے۔ غیر سنجیدگی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ حکومتی ڈھانچہ حقیقت پسندی سے دور ہو جائے تو پھر کسی قسم کی بہترین پالیسی بھی اچھے نتائج نہیں دکھا سکتی۔ سب سے پہلے یہ عرض کروں گا کہ سیاسی عدم استحکام، پورے ملک کی بنیادوں کو ہلا چکا ہے۔ سیاسی تناؤ روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہر پل کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے، جو اس الجھاؤ کو مشکل تر کرتا چلا جا رہاہے۔
سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وہ سیاسی راندہ درگاہ لوگ، جن کو اکثریت نے ووٹ نہیں دیا تھا پورے کا پورا حکومتی نظام، ان کے حوالے کر دیا جاتا رہا اور وہ کرپشن، اقربا پروری اور لوٹ مار کی ان مٹ داستانیں رقم کرتے رہے۔ اب تو انھیں کسی قسم کا خوف بھی نہیں رہا۔ یہ گھاگ لوگ یا چند خاندان ملکی سیاسی کھیل کی نفسیات سمجھ چکے........
