School
لائل پور، ایک حد درجہ منظم شہر تھا۔ پچھلی صدی کی بات کر رہا ہوں۔ ساٹھ کی دہائی کی۔ اس کا بہترین اسکول ڈویژنل پبلک اسکول تھا۔ اس وقت کی صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بہترین اور جدید تعلیمی ادارے کھولے جائیں، جواپنی جگہ بے مثال ہوں۔ لائل پور اس وقت صرف ضلع تھا، سرگودھا ڈویژن کا حصہ تھا، کمشنر سرگودھا میں بیٹھتا تھا۔ اس فرشتہ سیرت کمشنر کا نام یاد نہیں رہا، جس نے اس اسکول کو شروع کرنے کے لیے رات دن محنت کی تھی۔ آپ بیوروکریسی کو لاکھ برا بھلا کہیں مگر پاکستان کے ابتدائی دور کے سرکاری افسران حد درجہ محنتی اور دانشور تھے۔
جیسے یاد گار پاکستان کا منصوبہ بھی، لاہور میں تعینات ایک سینئر افسر کے ذہن میں آیا۔ ابتدائی طور پر انھوں نے اس عظیم کام کو سرانجام دینے کے لیے عام لوگوں سے مالی تعاون کی درخواست بھی کی تھی۔ لائل پور اس وقت مانچسٹر آف پاکستان کہلاتا تھا۔ وجہ کپڑا بنانے کی ان گنت فیکٹریاں اور ملیں تھیں۔ بات اسکول کی ہو رہی تھی۔ ابتدائی طور پر، نئی بلڈنگ بننے کاانتظار کیا جارہا تھا۔ چنانچہ جیل روڈ پر ایک بڑی سی کوٹھی میں یہ کام شروع کیا گیا تھا۔ میرا داخلہ اس کوٹھی اسکول میں ہوا تھا۔ شاید پریپ یا پھر پہلی کلاس میں، اچھی طرح یاد نہیں، مگر ایک بات ضرور یاد ہے، وہ تھی پیریڈ ختم ہونے کے بعد گھنٹی کی پرجوش گونج۔ میری عمر ہوگی، چار یا شاید پانچ برس۔ جناح کالونی سے محمد علی بھائی، سائیکل پر اسکول چھوڑنے اور لینے آتے تھے۔
محمد علی بہاری تھے اور کراچی سے بھاگ کر کسی ٹرین میں سوار ہو کر، لائل پور پہنچ گئے۔ اس وقت بارہ یا پندرہ برس کے ہوں گے۔ والد صاحب، کو کہیں مل گئے۔ پھر وہ ہمارے گھر کے فرد بن گئے۔ والد صاحب نے ہی انھیں 1978 میں سعودی عرب میں ایک دوست کے پاس بطور ڈرائیور بھجوا دیا۔ جہاں، وہ پچیس تیس برس رہے۔ دو سال پہلے محمد علی کا کراچی میں انتقال ہوا۔ سعودی عرب میں طویل نوکری کی بدولت خاصے خوشحال ہو چکے تھے۔ بہر حال، اسکول آنے جانے کے لیے والد صاحب، محمد علی بھائی کے سوا کسی پر بھی اعتبار نہیں کرتے تھے۔ کوئی بیس منٹ کا راستہ ہوتا تھا۔........
