menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Barish (2)

34 0
25.07.2026

لاہور میں دو دن پہلے قیامت خیز بارش ہوئی ہے۔ پوری رات، پانی برستا رہا۔ نشیبی علاقوں کا کیا حال ہوگا۔ وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مگر طالب علم نے، اس بھرپور میگھا میں دو حد درجہ متضاد واقعات دیکھے ہیں۔ حقیقت میں، ایک منظر پر بہت دکھ پہنچا اور دوسرے نکتہ پر خوشگوار حیرت ہوئی۔ ہمارے میڈیا کے معتبر نام، لکھاری، بیانیہ ترتیب دینے والے دانشور، اکثریت میں، ملکی نظام میں ہر دم کجی نکالتے رہتے ہیں۔ ناامیدی، مایوسی اور ممکنہ بربادی کی ایسی المناک تصویر کھینچنے میں مصروف کار رہتے ہیں کہ سننے یا دیکھنے والا سمجھتا ہے۔ کہ بس، آج کچھ ہو جائے گا۔ ہر شے فنا ہو جائے گی۔ خدانخواستہ ملک بھی نقشے سے معدوم ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے نام نہاد غازی تو خیر مایوسی پھیلانے کی دکانیں ہیں جن کا مقصد ہی ملک کو ہر لحاظ سے ناگفتہ بہ ثابت کرنا معلوم پڑتا ہے۔ یقین کیجیے، کہ اگر آپ چند مخصوص سوشل میڈیااکابرین کو سنیں، تو ایسے نظر آتا ہے کہ بس آسمان چند لمحوں ہی میں ملک پر گر جائے گا۔ زمین بھرپور طریقے سے دھنس جائے گی۔ مگر حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ملک بھی قائم ہے اور انشاء اللہ مشکلات سے باہر بھی آئے گا۔ مجھے اپنے ہم وطنوں کی جرأت اور حوصلہ پر رتی برابر بھی شک نہیں ہے۔ معاملات بگاڑ کے بعد بہتری کی طرف جائیں گے۔ یہی قانون قدرت ہے۔

بات لاہور کی بارش کی ہو رہی تھی۔ یہ اسی ہفتہ، بدھ کے روز کی بات ہے۔ مجھے لاہور کے ایک پوش ایریا سے ماڈل ٹاؤن کسی کام سے جانا تھا۔ ڈرائیور چھٹی پر تھا۔ بلکہ سچ پوچھیے کہ اتنی برسات میں اس کے لیے........

© Daily Urdu